حدیث نمبر: 83
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : ثُمَّ مَاذَا ؟ قَالَ : حَجٌّ مَبْرُورٌ " ، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ : إِيمَانٌ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ .
منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل پر ایمان لانا۔“ پوچھا گیا: پھر اس کے بعد کون سا؟ آپ نے فرمایا: ”اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔“ پوچھا گیا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”حج مبرور (ایسا حج جو سراسر نیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو۔)“ محمد بن جعفر کی روایت میں ”اللہ اور اس کے رسول پر ایمان“ کے الفاظ ہیں۔
حدیث نمبر: 83
وحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ .
امام مسلم رحمہ اللہ یہی روایت ایک دوسری سند سے بیان کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ . ح وحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الإِيمَانُ بِاللَّهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ ، قَالَ : قُلْتُ : أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا ، وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا ، قَالَ : قُلْتُ : فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ ؟ قَالَ : تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لأَخْرَقَ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ ؟ قَالَ : تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ ، فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ " .
ہشام بن عروہ نے اپنے والد (عروہ) سے، انہوں نے ابومراوح لیثی سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا، میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ کہا: میں نے (پھر) پوچھا: کون سی گردن (آزاد کرنا) افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: ”جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو۔“ کہا: میں نے پوچھا: اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام (خود) کر دو۔“ میں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا: ”لوگوں سے اپنا شر روک لو (انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے۔“
حدیث نمبر: 84
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ عبد : أَخْبَرَنَا ، وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِنَحْوِهِ غَيْرَ ، أَنَّهُ قَالَ : فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ للأَخْرَقَ .
امام مسلم رحمہ اللہ ایک اور سند سے یہی روایت بیان کرتے ہیں، فرق یہ ہے کہ اس میں «فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» کے الفاظ ہیں (اوپر کی روایت میں تعین «صانعاً» تھا)۔
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ ، إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز اپنے وقت پر۔“ میں نے پوچھا: اس کے بعد کون سا؟ فرمایا: ”والدین کے ساتھ حسنِ سلوک۔“ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد۔“ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رعایت و لحاظ کی خاطر مزید سوالات نہ کیے۔ (کہ آپ پر گراں نہ گزرے)
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورٍ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، " أَيُّ الأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا ، قُلْتُ : وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " .
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا عمل اللہ کو زیادہ پسند ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے وقت پر نماز۔“ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ احسان سے پیش آنا۔“ میں نے پوچھا پھر کون سا؟ فرمایا: ”پھر اللہ کی راہ میں جہاد۔“
حدیث نمبر: 85
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قُلْتُ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ " ، قَالَ : حَدَّثَنِي بِهِنَّ : وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي .
عبیداللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوعمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی (اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے؟ آپ نے فرمایا: ”نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آپ مجھے مزید بتاتے۔)
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَزَادَ ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا .
شعبہ سے ان کے ایک شاگرد محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا: ابوعمرو شیبانی نے عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کا نام نہ لیا۔
حدیث نمبر: 85
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَفْضَلُ الأَعْمَالِ ، أَوِ الْعَمَلِ الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا ، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ " .
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اعمال میں سب سے افضل یا افضل عمل وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسنِ سلوک اور نیکی کرنا ہے۔“