حدیث نمبر: 38
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي فِي الإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : غَيْرَكَ ، قَالَ : " قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ " .
عبداللہ بن نمیر، جریر اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے (ابواسامہ کی روایت میں ’’آپ کے بعد“ کے بجائے ’’آپ کے سوا“ کے الفاظ ہیں) آپ نے ارشاد فرمایا: ”کہو: «آمنت بالله» (میں اللہ پر ایمان لایا)، پھر اس پر پکے ہو جاؤ۔“