حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ كلاهما ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ حُمْرَانَ ، عَنْ عُثْمَانَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
حمران رحمہ اللہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی روایت سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اس یقین پر مرا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا حق دار نہیں ہے، وہ جنت میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 26
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُمْرَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عُثْمَانَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ مِثْلَهُ سَوَاءً .
حضرت حمران رحمہ اللہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ دونوں میں یکسانیت ہے۔
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ مُصَرِّفٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ ، قَالَ : فَنَفِدَتْ أَزْوَادُ الْقَوْمِ ، قَالَ : حَتَّى هَمَّ بِنَحْرِ بَعْضِ حَمَائِلِهِمْ ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ جَمَعْتَ مَا بَقِيَ مِنْ أَزْوَادِ الْقَوْمِ ، فَدَعَوْتَ اللَّهَ عَلَيْهَا ، قَالَ : فَفَعَلَ ، قَالَ : فَجَاءَ ذُو الْبُرِّ بِبُرِّهِ ، وَذُو التَّمْرِ بِتَمْرِهِ ، قَالَ : وَقَالَ مُجَاهِدٌ : وَذُو النَّوَاةِ بِنَوَاهُ ، قُلْتُ : وَمَا كَانُوا يَصْنَعُونَ بِالنَّوَى ؟ قَالَ : كَانُوا يَمُصُّونَهُ وَيَشْرَبُونَ عَلَيْهِ الْمَاءَ ، قَالَ : فَدَعَا عَلَيْهَا حَتَّى مَلَأَ الْقَوْمُ أَزْوِدَتَهُمْ ، قَالَ : فَقَالَ عِنْدَ ذَلِكَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ فِيهِمَا ، إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
طلحہ بن مصرف نے ابوصالح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، لوگوں کے زاد راہ ختم ہو گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی کچھ سواریاں (اونٹوں) کو ذبح کرنے کا ارادہ فرما لیا اس پر عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اللہ کے رسول! لوگوں کا جو زاد راہ بچ گیا ہے اگر آپ اسے جمع فرما لیں اور اللہ تعالیٰ سے اس پر برکت کی دعا فرمائیں (تو بہتر ہو گا)، کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا۔ گندم والا اپنی گندم لایا اور کھجور والا اپنی کھجور لایا۔ طلحہ بن مصرف نے کہا: مجاہد نے کہا: جس کے پاس گٹھلیاں تھیں، وہ گٹھلیاں ہی لے آیا۔ میں نے (مجاہد سے) پوچھا: گٹھلیاں کا لوگ کیا کرتے تھے؟ کہا: ان کو چوس کر پانی پی لیتے تھے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اس (تھوڑے سے زاد راہ) پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی تو پھر یہاں تک ہوا کہ لوگوں نے زاد راہ کے اپنے لیے برتن بھر لیے (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا) اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو بندہ بھی ان دونوں (شہادتوں) کے ساتھ، ان میں شک کیے بغیر اللہ سے ملے گا، وہ (ضرور) جنت میں داخل ہو گا۔“
حدیث نمبر: 27
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ جميعا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ، قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ شَكَّ الأَعْمَشُ ، قَالَ : لَمَّا كَانَ غَزْوَةُ تَبُوكَ ، أَصَابَ النَّاسَ مَجَاعَةٌ ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَذِنْتَ لَنَا ، فَنَحَرْنَا نَوَاضِحَنَا ، فَأَكَلْنَا وَادَّهَنَّا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : افْعَلُوا ، قَالَ : فَجَاءَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ فَعَلْتَ قَلَّ الظَّهْرُ ، وَلَكِنِ ادْعُهُمْ بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُ اللَّهَ لَهُمْ عَلَيْهَا بِالْبَرَكَةِ ، لَعَلَّ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَدَعَا بِنِطَعٍ فَبَسَطَهُ ، ثُمَّ دَعَا بِفَضْلِ أَزْوَادِهِمْ ، قَالَ : فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَجِيءُ بِكَفِّ ذُرَةٍ ، قَالَ : وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَفِّ تَمْرٍ ، قَالَ : وَيَجِيءُ الآخَرُ بِكَسْرَةٍ ، حَتَّى اجْتَمَعَ عَلَى النِّطَعِ مِنْ ذَلِكَ شَيْءٌ يَسِيرٌ ، قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ بِالْبَرَكَةِ ، ثُمَّ قَالَ : خُذُوا فِي أَوْعِيَتِكُمْ ، قَالَ : فَأَخَذُوا فِي أَوْعِيَتِهِمْ ، حَتَّى مَا تَرَكُوا فِي الْعَسْكَرِ وِعَاءً إِلَّا مَلَئُوهُ ، قَالَ : فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا ، وَفَضِلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، لَا يَلْقَى اللَّهَ بِهِمَا عَبْدٌ غَيْرَ شَاكٍّ ، فَيُحْجَبَ عَنِ الْجَنَّةِ " .
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے (اعمش رحمہ اللہ کو شک ہے) روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے سفر میں لوگوں کو بھوک لاحق ہوئی انہوں نے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کاش آپ ہمیں اجازت دیں تو ہم پانی لانے والے اونٹوں کو ذبح کر لیں، کھائیں اور چربی کا تیل بنا لیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے کرلو۔“ اتنے میں عمر رضی اللہ عنہ آگئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اگر آپ نے ایسا کیا تو سواریاں کم ہو جائیں گی البتہ آپ ان کو ان کے بچے ہوئے زادِ راہ سمیت بلوائیے، پھر ان کے لیے اللہ سے اس پر برکت کی دعا کیجیے۔ امید ہے اللہ تعالیٰ اس میں برکت ڈال دے گا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چمڑے کا ایک دستر خوان منگوا کر بچھا دیا، پھر لوگوں کا بچا ہوا زادِ راہ منگوایا۔ کوئی شخص مٹھی بھر جوار لا رہا ہے اور کوئی مٹھی بھر کھجور، کوئی روٹی کا ٹکڑا یہاں تک کہ اس سے دستر خوان پر تھوڑی سی تعداد جمع ہو گئی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت کی دعا فرمائی۔ پھر لوگوں سے کہا: ”اپنے برتنوں میں ڈال لو۔“ تو سب نے اپنے اپنے برتن بھر لیے یہاں تک کہ لشکر کے تمام برتن بھر گئے تو پھر سب نے مل کر کھایا اور سیر ہو گئے اور کھانا پھر بھی بچ گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ”میں گواہی دیتا ہوں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔ جو شخص ان دونوں (توحید و رسالت) پر یقین رکھتے ہوئے اللہ سے ملے گا وہ جنت سے محروم نہ ہو گا۔“
حدیث نمبر: 28
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنِ ابْنِ جَابِرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُمَيْرُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي جُنَادَةُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ ، وَابْنُ أَمَتِهِ ، وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ، وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ " .
حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بے شک محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کا بندہ اور اس کا رسول ہے اور بے شک عیسیٰ علیہ السلام اللہ کا بندہ اس کی بندی کا بیٹا ہے اور اس کا کلمہ ہے جس کا اس نے مریم کی طرف القاء کیا اور اس کی طرف سے روح ہے اور جنت حق ہے، دوزخ حق ہے اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے وہ چاہے گا جنت میں داخل کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 28
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيل ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ هَانِئٍ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ ، وَلَمْ يَذْكُرْ : مِنْ أَيِّ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ الثَّمَانِيَةِ شَاءَ .
عمیر بن ہانی سے (عبدالرحمن بن یزید) ابن جابر کے بجائے اوزاعی کے واسطے سے یہی حدیث بیان کی گئی ہے، البتہ انہوں نے اس طرح کہا: ”اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا، اس کے عمل جیسے بھی ہوں۔“ اور ”اسے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس سے چاہے گا (داخل کر دے گا)“ کا ذکر نہیں کیا۔
حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ ، فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ، فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ ، وَلَئِنِ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ ، إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ، وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .
صنابحی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبادہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا جب کہ وہ موت کے قریب تھے، تو میں رو پڑا، وہ مجھے فرمانے لگے: ٹھہریے! کیوں روتے ہو؟ پس اللہ کی قسم! اگر مجھ سے گواہی لی گئی، تو میں ترے حق میں گواہی دوں گا اور اگر مجھے سفارش کا موقع ملا، تو میں تیری سفارش کروں گا اور اگر میرے بس میں ہوا، تو میں تجھے ضرور نفع پہنچاؤں گا۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! جو حدیث بھی میں نے تمہاری بہتری کے باعث نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، وہ ایک حدیث کے سوا تم تک پہنچا دی اور وہ حدیث بھی آج تمہیں سنائے دیتا ہوں، کیونکہ میری جان قبض ہونے کو ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس شخص نے اس بات پر گواہی دی کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کی آگ حرام کر دے گا۔“
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا مُؤْخِرَةُ الرَّحْلِ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : قُلْتُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، ثُمَّ سَارَ سَاعَةً ، قَالَ : يَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، قُلْتُ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث روایت کی، کہا: میں (سواری کے ایک جانور پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا، میرے اور آپ کے درمیان کجاوے کے پچھلے حصے کی لکڑی (جتنی جگہ) کے سوا کچھ نہ تھا، چنانچہ (اس موقع پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ (اس کے بعد) آپ پھر گھڑی بھر چلتے رہے، اس کے بعد فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں نے عرض کی: میں حاضر ہوں، اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: ”کیا جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ عزوجل کا کیا حق ہے؟“ کہا: میں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ آگاہ ہیں۔ ارشاد فرمایا: ”بندوں پر اللہ عزوجل کا حق یہ ہے کہ اس کی بندگی کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔“ پھر کچھ دیر چلنے کے بعد فرمایا: ”اے معاذ بن جبل!“ میں عرض کی: میں حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔ آپ نے فرمایا: ”کیا آپ جانتے ہو کہ جب بندے اللہ کا حق ادا کریں تو پھر اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟“ میں نے عرض کی، اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ سَلَّامُ بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حِمَارٍ يُقَالُ لَهُ : عُفَيْرٌ ، قَالَ : فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، وَمَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ، أَنْ يَعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ، وَحَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ، أَنْ لَا يُعَذِّبَ مَنْ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ ؟ قَالَ : لَا تُبَشِّرْهُمْ فَيَتَّكِلُوا .
عمرو بن میمون نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک گدھے پر سوار تھا جسے عفیر کہا جاتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اے معاذ! جانتے ہو، بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟“ میں نے عرض کی: اللہ اور اس کے رسول زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ وہ اس کی بندگی کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور اللہ پر بندوں کا حق یہ ہے کہ جو بندہ اس کے ساتھ (کسی چیز کو) شریک نہ ٹھہرائے، اللہ اس کو عذاب نہ دے۔“ کہا: میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو خوش خبری نہ سناؤں؟ آپ نے فرمایا: ”ان کو خوش خبری نہ سناؤ ورنہ وہ اسی پر بھروسہ کر لیں گے۔“
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ وَالأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا الأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم : يَا مُعَاذُ ، " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ ؟ قَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ يُعْبَدَ اللَّهُ وَلَا يُشْرَكَ بِهِ شَيْءٌ ، قَالَ : أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ ؟ فَقَالَ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ " .
شعبہ نے ابوحصین اور اشعث بن سلیم سے حدیث سنائی، ان دونوں نے اسود بن ہلال سے سنا، وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے معاذ! کیا تم جانتے ہو بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟“ معاذ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ اللہ کی بندگی کی جائے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا جائے۔“ آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو اگر وہ (بندے) ایسا کریں تو اللہ پر ان کا حق کیا ہے؟“ میں نے جواب دیا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”یہ کہ وہ انہیں عذاب نہ دے۔“
حدیث نمبر: 30
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاذًا ، يَقُولُ : دَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَجَبْتُهُ ، فَقَالَ : هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى النَّاسِ ، نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .
زائدہ (بن قدامہ) نے ابوحصین سے، انہوں نے اسود بن ہلال سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا، میں نے آپ کو جواب دیا تو آپ نے پوچھا: ”کیا جانتے ہو لوگوں پر اللہ کا حق کیا ہے؟ ...“ پھر ان (سابقہ راویوں) کی حدیث کی طرح (حدیث سنائی۔ )
حدیث نمبر: 31
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا قُعُودًا حَوْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَعَنَا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ فِي نَفَرٍ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْنِ أَظْهُرِنَا ، فَأَبْطَأَ عَلَيْنَا ، وَخَشِينَا أَنْ يُقْتَطَعَ دُونَنَا ، وَفَزِعْنَا فَقُمْنَا ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ فَزِعَ ، فَخَرَجْتُ أَبْتَغِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَتَّى أَتَيْتُ حَائِطًا لِلأَنْصَار لِبَنِي النَّجَّارِ ، فَدُرْتُ بِهِ ، هَلْ أَجِدُ لَهُ بَابًا ؟ فَلَمْ أَجِدْ ، فَإِذَا رَبِيعٌ ، يَدْخُلُ فِي جَوْفِ حَائِطٍ مِنْ بِئْرٍ خَارِجَةَ ، وَالرَّبِيعُ الْجَدْوَلُ ، فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَبُو هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : مَا شَأْنُكَ ؟ قُلْتُ : كُنْتَ بَيْنَ أَظْهُرِنَا ، فَقُمْتَ فَأَبْطَأْتَ عَلَيْنَا ، فَخَشِينَا أَنْ تُقْتَطَعَ دُونَنَا ، فَفَزِعْنَا ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مِنْ فَزِعَ ، فَأَتَيْتُ هَذَا الْحَائِطَ فَاحْتَفَزْتُ كَمَا يَحْتَفِزُ الثَّعْلَبُ ، وَهَؤُلَاءِ النَّاسُ وَرَائِي ، فَقَالَ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَأَعْطَانِي نَعْلَيْهِ ، قَالَ : اذْهَبْ بِنَعْلَيَّ هَاتَيْنِ ، فَمَنْ لَقِيتَ مِنْ وَرَاءِ هَذَا الْحَائِطِ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ ، فَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ ، فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ لَقِيتُ عُمَرُ ، فَقَالَ : مَا هَاتَانِ النَّعْلَانِ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ فَقُلْتُ : هَاتَانِ نَعْلَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بَعَثَنِي بِهِمَا مَنْ لَقِيتُ ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ ، فَضَرَبَ عُمَرُ بِيَدِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ، فَخَرَرْتُ لِاسْتِي ، فَقَالَ : ارْجِعْ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَرَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَجْهَشْتُ بُكَاءً ، وَرَكِبَنِي عُمَرُ ، فَإِذَا هُوَ عَلَى أَثَرِي ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا لَكَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ قُلْتُ : لَقِيتُ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي بَعَثْتَنِي بِهِ ، فَضَرَبَ بَيْنَ ثَدْيَيَّ ضَرْبَةً خَرَرْتُ لِاسْتِي ، قَالَ : ارْجِعْ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ : يَا عُمَرُ ، مَا حَمَلَكَ عَلَى مَا فَعَلْتَ ؟ قَال : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، أَبَعَثْتَ أَبَا هُرَيْرَةَ بِنَعْلَيْكَ ، " مَنْ لَقِيَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، مُسْتَيْقِنًا بِهَا قَلْبُهُ بَشَّرَهُ بِالْجَنَّةِ " ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَلَا تَفْعَلْ ، فَإِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلَ النَّاسُ عَلَيْهَا فَخَلِّهِمْ يَعْمَلُون ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : فَخَلِّهِمْ .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاروں طرف ایک جماعت (کی صورت) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم بھی موجود تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان سے اٹھے (اور کسی طرف چلے گئے)، پھر آپ نے ہماری طرف (واپسی میں) بہت تاخیر کر دی تو ہم ڈر گئے کہ کہیں ہمارے بغیر آپ کو کوئی گزند نہ پہنچائی جائے۔ اس پر ہم بہت گھبرائے اور (آپ کی تلاش میں نکل) کھڑے ہوئے۔ سب سے پہلے میں ہی گھبرایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈھونڈنے نکلا یہاں تک کہ میں انصار کے خاندان بنونجار کے چار دیواری (فصیل) سے گھرے ہوئے ایک باغ تک پہنچا اور میں نے اس کے ارد گرد چکر لگایا کہ کہیں پر دروازہ مل جائے لیکن مجھے نہ ملا۔ اچانک پانی کی ایک گزر گاہ دکھائی دی جو باہر کے کنوئیں سے باغ کے اندر جاتی تھی (ربیع آب پاشی کی چھوٹی سی نہر کو کہتے ہیں) میں لومڑی کی طرح سمٹ کر داخل ہوا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گیا۔ آپ نے پوچھا: ”ابوہریرہ ہو؟“ میں نے عرض کی: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”تمہیں کیا معاملہ درپیش ہے؟“ میں نے عرض کی: آپ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے، پھر وہاں سے اٹھ گئے، پھر آپ نے ہماری طرف (واپس) آنے میں دیر کر دی تو ہمیں خطرہ لاحق ہوا کہ آپ ہم سے کاٹ نہ دیے جائیں۔ اس پر ہم گھبرا گئے، سب سے پہلے میں گھبرا کر نکلا تو اس باغ تک پہنچا اور اس طرح سمٹ کر (اندر گھس) آیا ہوں جس طرح لومڑی سمٹ کر گھستی ہے اور یہ دوسرے لوگ میرے پیچھے (آرہے) ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابوہریرہ !“ اور مجھے اپنے نعلین (جوتے) عطا کیے اور ارشاد فرمایا: ”میرے یہ جوتے لے جاؤ اور اس چار دیواری کی دوسری طرف تمہیں جو بھی ایسا آدمی ملے جو دل کے پورے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی خوش خبری سنا دو۔“ سب سے پہلے میری ملاقات عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے کہا: ابوہریرہ ! (تمہاری ہاتھ میں) یہ جوتے کیسے ہیں؟ میں نے کہا: یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین (مبارک) ہیں۔ آپ نے مجھے یہ نعلین (جوتے) دے کر بھیجا ہے کہ جس کسی کو ملوں جو دل کے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دیتا ہو، اسے جنت کی بشارت دے دوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے میرے سینے پر اپنے ہاتھ سے ایک ضرب لگائی جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا اور انہوں نے کہا: اے ابوہریرہ! پیچھے لوٹو۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس عالم میں واپس آیا کہ مجھے رونا آ رہا تھا اور عمر رضی اللہ عنہ میرے پیچھے لگ کر چلتے آئے تو اچانک میرے عقب سے نمودار ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) کہا: ”اے ابوہریرہ! تمہیں کیا ہوا؟“ میں نے عرض کی: میں عمر رضی اللہ عنہ سے ملا اور آپ نے مجھے جو پیغام دے کر بھیجا تھا، میں نے انہیں بتایا تو انہوں نے میرے سینے پر ایک ضرب لگائی ہے جس سے میں اپنی سرینوں کے بل گر پڑا، اور مجھ سے کہا کہ پیچھے لوٹو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر! تم نے جو کیا اس کا سبب کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ کے رسول! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں! کیا آپ نے ابوہریرہ کو اس لیے نعلین دے کر بھیجا تھا کہ دل کے یقین کے ساتھ «لا إله إلا الله» کی شہادت دینے والے جس کسی کو ملے، اسے جنت کی بشارت دے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: تو ایسا نہ کیجیے، مجھے ڈر ہے کہ لوگ بس اسی (شہادت) پر بھروسا کر بیٹھیں گے، انہیں چھوڑ دیں کہ وہ عمل کرتے رہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو ان کو چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 32
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، رَدِيفُهُ عَلَى الرَّحْلِ ، قَالَ : يَا مُعَاذ ، قَالَ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : يَا مُعَاذُ ، قَالَ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : يَا مُعَاذُ ، قَالَ : لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ ، قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، إِلَّا حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ " ، قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا أُخْبِرُ بِهَا النَّاسَ فَيَسْتَبْشِرُوا ؟ قَالَ : إِذًا يَتَّكِلُوا ، فَأَخْبَرَ بِهَا مُعَاذٌ عِنْدَ مَوْتِهِ تَأَثُّمًا .
قتادہ نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے، جب وہ پالان پر آپ کے پیچھے سوار تھے، فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! میرے نصیب روشن ہو گئے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پھر فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں بار بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! زہے نصیب۔“ پھر آپ نے فرمایا: ”اے معاذ!“ انہوں نے عرض کی: ”میں ہر بار حاضر ہوں اللہ کے رسول! میری خوش بختی۔“ (اس پر) آپ نے فرمایا: ”کوئی بندہ ایسا نہیں جو (سچے دل سے) شہادت دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اس کے بندے اور رسول ہیں مگر اللہ ایسے شخص کو دوزخ پر حرام کر دیتا ہے۔“ حضرت معاذ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا میں لوگوں کو اس کی خبر نہ کر دوں تاکہ وہ سب خوش ہو جائیں؟ آپ نے فرمایا: ”پھر وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔“ چنانچہ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے (کتمان علم کے) گناہ کے خوف سے اپنی موت کے وقت یہ بات بتائی۔
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ ، قَالَ : أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي ، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ ، وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ ، قَالُوا : وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ ، وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالُوا : إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ ، قَالَ : " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ ، فَقُلْتُ لِابْنِي : اكْتُبْهُ ، فَكَتَبَهُ .
سلیمان بن مغیرہ نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے محمود بن ریبع رضی اللہ عنہ نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی۔ (محمود رضی اللہ عنہ نے) کہا کہ میں مدینہ آیا تو عتبان رضی اللہ عنہ کو ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث مجھے آپ کے حوالے سے پہنچی ہے۔ حضرت عتبان نے کہا: میری آنکھوں کو کوئی بیماری لاحق ہو گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیغام بھیجا کہ اے اللہ کے رسول! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ میرے پاس تشریف لائیں اور میرے گھر میں نماز ادا فرمائیں تاکہ میں اسی (جگہ) کو نماز پڑھنے کی جگہ بنا لوں۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں میں سے جن کو اللہ نے چاہا، تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے، آپ نماز پڑھ رہے تھے اور آپ کے ساتھی آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ انہوں نے زیادہ اور بڑی بڑی باتیں مالک بن دخشم کے ساتھ جوڑ دیں، وہ چاہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے حق میں بد دعا فرمائیں اور وہ ہلاک ہو جائے اور ان کی خواہش تھی کہ اس پر کوئی آفت آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور پوچھا: ”کیا وہ اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں؟“ صحابہ کرام نے جواب دیا: وہ (زبان سے) یہ کہتا ہے لیکن اس کے دل میں یہ نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی ایسا شخص نہیں جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں تو پھر وہ آگ میں داخل ہو یا آگ اسے اپنی خوراک بنا لے۔“ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھے بہت اچھی لگی (پسند آئی) تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا: اسے لکھ لو، اس نے یہ حدیث لکھ لی۔
حدیث نمبر: 33
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عِتْبَانُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ عَمِيَ ، فَأَرْسَلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَال : تَعَالَ ، فَخُطَّ لِي مَسْجِدًا ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَاءَ قَوْمُهُ وَنُعِتَ رَجُلٌ مِنْهُمْ ، يُقَالُ لَهُ : مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُمِ ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ .
حماد نے کہا: ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عتبان بن مالک نے بتایا کہ وہ نابینا ہو گئے تھے، اس وجہ سے انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ تشریف لائیں اور میرے لیے مسجد کی ایک جگہ متعین کر دیں (تاکہ میں اس میں نماز پڑھ سکوں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ان (عتبان) کی قوم کے لوگ بھی آگئے، ان میں سے ایک آدمی، جسے مالک بن دخشم کہا جاتا تھا، غائب رہا... اس کے بعد حماد نے بھی (ثابت کے دوسرے شاگرد) سلیمان بن مغیرہ کی طرح روایت بیان کی۔