کتب حدیث ›
صحيح مسلم › ابواب
› باب: بیان اس ایمان کا جس سے آدمی جنت میں جائے گا اور بیان اس بات کا کہ حکم بجا لانے والا جنت میں جائے گا۔
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ طَلْحَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، عَرَضَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي سَفَرٍ ، فَأَخَذَ بِخِطَامِ نَاقَتِهِ أَوْ بِزِمَامِهَا ، ثُمّ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْ يَا مُحَمَّدُ ، أَخْبِرْنِي بِمَا يُقَرِّبُنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَمَا يُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : فَكَفَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَظَرَ فِي أَصْحَابِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " لَقَدْ وُفِّقَ ، أَوْ لَقَدْ هُدِي " ، قَالَ : كَيْفَ قُلْتَ ؟ قَالَ : فَأَعَادَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ الرَّحِمَ ، دَعِ النَّاقَةَ " ،
عمر بن عثمان نے کہا: ہمیں موسیٰ بن طلحہ نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے جب ایک اعرابی (دیہاتی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آ کھڑا ہوا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کی مہار یا نکیل پکڑ لی، پھر کہا: اے اللہ کے رسول! (یا اے محمد!) مجھے وہ بات بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رک گئے، پھر اپنے ساتھیوں پر نظر دوڑائی، پھر فرمایا: ”اس کو توفیق ملی (یا ہدایت ملی)۔“ پھر بدوی نے پوچھا: ”تم نے کیا بات کی؟“ اس نے اپنی بات دہرائی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ تعالیٰ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو اور صلہ رحمی کرو۔ (اب) اونٹنی کو چھوڑ دو۔“
حدیث نمبر: 13
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْر ٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَوْهَبٍ وَأَبُوهُ عُثْمَانُ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا مُوسَى بْنَ طَلْحَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِمِثْلِ هَذَا الْحَدِيثِ .
محمد بن عثمان بن عبداللہ بن موہب اور ان کے والد عثمان دونوں نے موسیٰ بن طلحہ سے سنا، وہ حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سابقہ حدیث کی مانند بیان کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الأَحْوَصِ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ أَعْمَلُهُ يُدْنِينِي مِنَ الْجَنَّةِ ، وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ ، قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ ، وَتَصِلُ ذَا رَحِمِكَ " ، فَلَمَّا أَدْبَرَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ تَمَسَّكَ بِمَا أُمِرَ بِهِ ، دَخَلَ الْجَنَّةَ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ : " إِنْ تَمَسَّكَ بِهِ " .
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے حدیث بیان کی، انہوں نے ابواسحاق سے، انہوں نے موسیٰ بن طلحہ سے اور انہوں نے حضرت ابوایوب رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا: مجھے کوئی ایسا کام بتائیے جس پر میں عمل کروں تو وہ مجھے جنت کے قریب اور آگ سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تو اللہ کی بندگی کرے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے، نماز کی پابندی کرے، زکاۃ ادا کرے اور اپنے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرے۔“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس نے ان چیزوں کی پابندی کی جن کا اسے حکم دیا گیا ہے تو جنت میں داخل ہو گا۔“ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے: ”اگر اس نے اس کی پابندی کی (تو جنت میں داخل ہو گا)۔“
حدیث نمبر: 14
وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ ، إِذَا عَمِلْتُهُ دَخَلْتُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : " تَعْبُدُ اللَّهَ ، لَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا ، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ ، وَتُؤَدِّي الزَّكَاةَ الْمَفْرُوضَةَ ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ " ، قَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَا أَزِيدُ عَلَى هَذَا شَيْئًا أَبَدًا ، وَلَا أَنْقُصُ مِنْهُ ، فَلَمَّا وَلَّى ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَلْيَنْظُرْ إِلَى هَذَا " .
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے ایسا عمل بتائیے کہ جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندگی کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو جو تم پر لکھ دی گئی ہے، فرض زکاۃ ادا کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ وہ کہنے لگا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نہ کبھی اس پر کسی چیز کا اضافہ کروں گا اور نہ اس میں کمی کروں گا۔ جب وہ واپس جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جسے اس بات سے خوشی ہو کہ وہ ایک جنتی آدمی دیکھے تو وہ اسے دیکھ لے۔“
حدیث نمبر: 15
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الْمَكْتُوبَةَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّة ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ " .
حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نعمان بن قوقل آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! بتلائیے جب میں فرض نمازیں ادا کرتا رہوں، حرام سے بچتا رہوں اور حلال کو حلال قرار دوں تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“
حدیث نمبر: 15
وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ وَالْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، عَنِ شَيْبَانَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ وَأَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ قَوْقَلٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِمِثْلِهِ وَزَادَ فِيهِ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .
شیبان نے اعمش سے، انہوں نے ابوصالح اور ابوسفیان سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: نعمان بن قوقل رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! پھر اس سابقہ روایت کی طرح ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا: اور اس پر کسی چیز کا اضافہ نہ کروں گا۔
حدیث نمبر: 15
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ وَهُوَ ابْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلًا ، سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَرَأَيْتَ إِذَا صَلَّيْتُ الصَّلَوَاتِ الْمَكْتُوبَاتِ ، وَصُمْتُ رَمَضَانَ ، وَأَحْلَلْتُ الْحَلَالَ ، وَحَرَّمْتُ الْحَرَامَ ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا ، أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ ؟ قَالَ : نَعَمْ " ، قَالَ : وَاللَّهِ لَا أَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا .
سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، معقل یعنی عبداللہ، ابوالزبیر، جابر سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ اگر میں فرض نماز پڑھتا رہوں اور حلال کو حلال سمجھتے ہوئے اس سے بچتا رہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیا رائے ہے کہ کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ اس شخص نے عرض کیا: اللہ کی قسم میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کروں گا۔