حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَحْيَي بْنُ صَبِيحٍ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ: إِنِّي أَحْسَبُ أَنَّكُمْ تَأْكُلُونَ شَجَرَتَيْنِ يَعْنِي خَبِيثَتَيْنِ الْبَصَلَ وَالثُّومَ فَإِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاقْتُلُوهُمَا بِالنُّضْجِ ثُمَّ كُلُوهُمَا فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجِدُ رِيحَهُ مِنَ الرَّجُلِ فَيَأْمُرُ بِهِ فَيَخْرُجُ إِلَي الْبَقِيعِ "
اردو ترجمہ مسند الحمیدی
معدان بن ابوطلحہ الیعمری سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، میں یہ سمجھتا ہوں کہ تم لوگ ان دو درختوں۔ (سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی مراد، بو دار درخت پیاز اور لہسن تھے) کی پیدوار کھاتے ہو۔ اگر تم نے ضرور ایسا کرنا ہے تو تم پکا کر ان کی بو کو ختم کر دو، پھر انہیں کھاؤ، کیونکہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات یاد ہے کہ اگر آپ کو اس کی بو محسوس ہوتی تو آپ اس کے بارے میں حکم دیتے تھے، تو اسے ”بقیع“ کی طرف نکال دیا جاتا تھا۔