حدیث نمبر: 724
حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ أَسَدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ ، فَقِيلَ لَهُ : " مَا أَنْكَرْتَ مِنَّا مُنْذُ يَوْمِ عَهِدْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَا أَنْكَرْتُ شَيْئًا ، إِلَّا أَنَّكُمْ لَا تُقِيمُونَ الصُّفُوفَ " ، وَقَالَ عُقْبَةُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ قَدِمَ عَلَيْنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْمَدِينَةَ بِهَذَا .
مولانا داود راز
´ہم سے معاذ بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے فضل بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن عبید طائی نے بیان کیا بشیر بن یسار انصاری سے ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ` جب وہ ( بصرہ سے ) مدینہ آئے ، تو آپ سے پوچھا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک اور ہمارے اس دور میں آپ نے کیا فرق پایا ۔ فرمایا کہ اور تو کوئی بات نہیں صرف لوگ صفیں برابر نہیں کرتے ۔ اور عقبہ بن عبید نے بشیر بن یسار سے یوں روایت کیا کہ انس رضی اللہ عنہ ہمارے پاس مدینہ تشریف لائے ۔ پھر یہی حدیث بیان کی ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 724
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»