کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: (رکوع یا سجدہ میں) امام سے پہلے سر اٹھانے والے کا گناہ کتنا ہے؟
حدیث نمبر: 691
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَمَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ أَوْ لَا يَخْشَى أَحَدُكُمْ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ قَبْلَ الْإِمَامِ أَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ رَأْسَهُ رَأْسَ حِمَارٍ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ صُورَتَهُ صُورَةَ حِمَارٍ " .
مولانا داود راز
´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، انہوں نے محمد بن زیاد سے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے تھے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم میں وہ شخص جو ( رکوع یا سجدہ میں ) امام سے پہلے اپنا سر اٹھا لیتا ہے اس بات سے نہیں ڈرتا کہ کہیں اللہ پاک اس کا سر گدھے کے سر کی طرح بنا دے یا اس کی صورت کو گدھے کی سی صورت بنا دے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 691
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة