کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: (جماعت کے لیے) ہر ہر قدم پر ثواب ملنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 655
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بَنِي سَلِمَةَ ، أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟ ".
مولانا داود راز
´ہم سے محمد بن عبداللہ بن حوشب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوہاب ثقفی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے بنو سلمہ والو ! کیا تم اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 655
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 656
وَقَالَ مُجَاهِدٌ فِي قَوْلِهِ : وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ ، قَالَ خُطَاهُمْ ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ : أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ ، حَدَّثَنِي أَنَسٌ ، أَنَّ بَنِي سَلِمَةَ أَرَادُوا أَنْ يَتَحَوَّلُوا عَنْ مَنَازِلِهِمْ فَيَنْزِلُوا قَرِيبًا مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ ، فَقَالَ : أَلَا تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ؟ قَالَ مُجَاهِدٌ : خُطَاهُمْ آثَارُهُمْ أَنْ يُمْشَى فِي الْأَرْضِ بِأَرْجُلِهِمْ .
مولانا داود راز
´اور ابن ابی مریم نے بیان میں یہ زیادہ کہا ہے کہ` مجھے یحییٰ بن ایوب نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے حمید طویل نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بنو سلمہ والوں نے یہ ارادہ کیا کہ اپنے مکان ( جو مسجد سے دور تھے ) چھوڑ دیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آ رہیں ۔ ( تاکہ باجماعت کے لیے مسجد نبوی کا ثواب حاصل ہو ) لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ کا اجاڑ دینا برا معلوم ہوا ۔ آپ نے فرمایا کہ تم لوگ اپنے قدموں کا ثواب نہیں چاہتے ؟ مجاہد نے کہا ( سورۃ یٰسین میں ) «وآثارهم» سے قدم مراد ہیں ۔ یعنی زمین پر چلنے سے پاؤں کے نشانات ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 656
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة