کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: کیا مسجد سے کسی ضرورت کی وجہ سے اذان یا اقامت کے بعد بھی کوئی شخص نکل سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 639
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ انْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ ، قَالَ : عَلَى مَكَانِكُمْ ، فَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَقَدِ اغْتَسَلَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، وہ صالح بن کیسان سے ، وہ ابن شہاب سے ، وہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( ایک دن حجرے سے ) باہر تشریف لائے ، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر کی جا چکی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو ہم انتظار کر رہے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہیں ۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ۔ ہم اسی حالت میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے ، تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 639
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة