کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: ہر اذان اور تکبیر کے بیچ میں جو کوئی چاہے (نفل) نماز پڑھ سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 627
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّل ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، بَيْنَ كُلِّ أَذَانَيْنِ صَلَاةٌ ، ثُمَّ قَالَ فِي الثَّالِثَةِ لِمَنْ شَاءَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عبداللہ بن یزید مقری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے کہمس بن حسن نے بیان کیا ، انہوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ، انہوں نے عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دو اذانوں ( اذان و تکبیر ) کے بیچ میں نماز ہے ۔ ہر دو اذانوں کے درمیان نماز ہے ۔ پھر تیسری مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی پڑھنا چاہے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 627
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»