کتب حدیثصحيح البخاريابوابباب: اس بیان میں کہ اذان کیونکر شروع ہوئی۔
حدیث نمبر: Q603
وَقَوْلُهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَإِذَا نَادَيْتُمْ إِلَى الصَّلاةِ اتَّخَذُوهَا هُزُوًا وَلَعِبًا ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَوْمٌ لا يَعْقِلُونَ سورة المائدة آية 58 وَقَوْلُهُ : إِذَا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ سورة الجمعة آية 9 .
مولانا داود راز
‏‏‏‏ اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی وضاحت کہ ” اور جب تم نماز کے لیے اذان دیتے ہو ، تو وہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں ۔ یہ اس وجہ سے کہ یہ لوگ ناسمجھ ہیں ۔ “ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ” جب تمہیں جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے پکارا جائے ۔“ ( تو اللہ کی یاد کرنے کے لیے فوراً چلے آؤ ۔ )
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: Q603
حدیث نمبر: 603
حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : ذَكَرُوا النَّارَ وَالنَّاقُوسَ ، فَذَكَرُوا الْيَهُودَ ، وَالنَّصَارَى ، : ذَكَرُوا النَّارَ " فَأُمِرَ بِلَالٌ أَنْ يَشْفَعَ الْأَذَانَ وَأَنْ يُوتِرَ الْإِقَامَةَ " .
مولانا داود راز
´ہم سے عمران بن میسرہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے ابوقلابہ عبداللہ بن زید سے ، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے کہ` ( نماز کے وقت کے اعلان کے لیے ) لوگوں نے آگ اور ناقوس کا ذکر کیا ۔ پھر یہود و نصاریٰ کا ذکر آ گیا ۔ پھر بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم ہوا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ کہیں اور اقامت میں ایک ایک مرتبہ ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 603
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ ، يَقُولُ : كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ فَيَتَحَيَّنُونَ الصَّلَاةَ لَيْسَ يُنَادَى لَهَا ، فَتَكَلَّمُوا يَوْمًا فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : بَلْ بُوقًا مِثْلَ قَرْنِ الْيَهُودِ ، فَقَالَ عُمَرُ : أَوَلَا تَبْعَثُونَ رَجُلًا يُنَادِي بِالصَّلَاةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا بِلَالُ قُمْ فَنَادِ بِالصَّلَاةِ " .
مولانا داود راز
´ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق بن ہمام نے ، کہا کہ ہمیں عبدالملک ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ` جب مسلمان ( ہجرت کر کے ) مدینہ پہنچے تو وقت مقرر کر کے نماز کے لیے آتے تھے ۔ اس کے لیے اذان نہیں دی جاتی تھی ۔ ایک دن اس بارے میں مشورہ ہوا ۔ کسی نے کہا نصاریٰ کی طرح ایک گھنٹہ لے لیا جائے اور کسی نے کہا کہ یہودیوں کی طرح نرسنگا ( بگل بنا لو ، اس کو پھونک دیا کرو ) لیکن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی شخص کو کیوں نہ بھیج دیا جائے جو نماز کے لیے پکار دیا کرے ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اسی رائے کو پسند فرمایا اور بلال سے ) فرمایا کہ بلال ! اٹھ اور نماز کے لیے اذان دے ۔
حوالہ حدیث صحيح البخاري / كتاب الأذان / حدیث: 604
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث تخریج «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»