حدیث نمبر: 1049
عن عائشة رضي الله عنها قالت : لما نزل عذري قام رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على المنبر فذكر ذلك وتلا القرآن فلما نزل أمر برجلين وامرأة فضربوا الحد. أخرجه أحمد والأربعة وأشار إليه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` جب قرآن مجید میں میری برات نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر رونق افروز ہوئے اور اس کا ذکر فرمایا اور قرآن کی تلاوت فرمائی ۔ جب منبر سے نیچے تشریف لائے تو دو مردوں اور ایک عورت کے متعلق حکم دیا کہ ان کو حد لگائی جائے ۔ اس کو احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور بخاری نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1050
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : أول لعان كان في الإسلام أن شريك بن سحماء قذفه هلال بن أمية بامرأته فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « البينة وإلا فحد في ظهرك » الحديث أخرجه أبو يعلى ورجاله ثقات وفي البخاري نحوه من حديث ابن عباس رضي الله عنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` اسلام میں لعان کا پہلا واقعہ شریک بن سحماء کا تھا ۔ ان پر ہلال بن امیہ نے اپنی بیوی کے ساتھ زنا کی تہمت لگائی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ ’’ گواہ لاؤ ، ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی ۔ “ اس حدیث کی تخریج ابویعلٰی نے کی ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت بھی اسی طرح ہے ۔
حدیث نمبر: 1051
وعن عبد الله بن عامر بن ربيعة رضي الله عنه قال : لقد أدركت أبا بكر وعمر وعثمان ومن بعدهم فلم أرهم يضربون المملوك في القذف إلا أربعين . رواه مالك والثوري في جامعه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ` میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور ان کے بعد والوں کا عہد پایا ہے ۔ میں نے ان کو نہیں دیکھا کہ غلاموں کو سزائے قذف میں چالیس ( کوڑوں ) سے زیادہ مارتے ہوں ۔ اسے مالک نے روایت کیا ہے اور ثوری نے اپنی جامع میں بیان کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 1052
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من قذف مملوكه يقام عليه الحد يوم القيامة إلا أن يكون كما قال ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جو شخص اپنی مملوک پر زنا کی تہمت لگائے اس پر قیامت کے روز حد لگائی جائے گی ۔ الایہ کہ وہ اسی طرح ہو جس طرح کہ اس نے کہا ہے ( یعنی وہ تہمت سچی ہو ) ۔ “ ( بخاری و مسلم )