حدیث نمبر: 915
عن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أبغض الحلال إلى الله الطلاق » رواه أبو داود وابن ماجه وصححه الحاكم ورجح أبو حاتم إرساله.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” حلال چیزوں میں سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ بری چیز طلاق ہے ۔ “ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور ابوحاتم نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے ۔
حدیث نمبر: 916
وعن ابن عمر أنه طلق امرأته وهي حائض في عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فسأل عمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن ذلك ؟ فقال : « مره فليراجعها ثم ليتركها حتى تطهر ثم تحيض ثم تطهر ثم إن شاء أمسك بعد وإن شاء طلق قبل أن يمس فتلك العدة التي أمر الله عز وجل أن تطلق لها النساء». متفق عليه ، وفي رواية لمسلم : « مره فليراجعها ثم ليطلقها طاهرا أو حاملا ». وفي أخرى للبخاري : " وحسبت تطليقة ". وفي رواية لمسلم قال ابن عمر : أما أنت طلقتها واحدة أو اثنتين فإن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أمرني أن أراجعها ثم أمسكها حتى تحيض حيضة أخرى ثم أمهلها حتى تطهر ثم أطلقها قبل أن أمسها وأما أنت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك . وفي رواية أخرى قال عبد الله بن عمر : فردها علي ولم يرها شيئا وقال : « إذا طهرت فليطلق أو ليمسك ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` انہوں نے اپنی بیوی کو عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں طلاق دے دی جبکہ وہ حالت حیض میں تھی ۔ پس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے کہو کہ رجوع کر لے اور اسے اس وقت تک روک لے کہ طہر شروع ہو جائے ۔ پھر ایام آئیں پھر طہر شروع ہو پھر اگر چاہے تو اس کے بعد روک لے اور اگر چاہے تو طلاق دے ۔ صحبت و مجامعت کرنے سے پہلے ۔ پس یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس میں عورتوں کو طلاق دی جائے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم کی روایت میں ہے کہ اسے کہو ” کہ اس سے رجوع کر لے پھر اسے چاہیئے کہ طلاق ایسی حالت میں دے کہ وہ پاک ہو یا حاملہ ہو ۔ “ اور بخاری کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” یہ ایک طلاق شمار ہو گی ۔ “ اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا اگر تو نے عورت کو ایک یا دو طلاقیں دی ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم ارشاد فرمایا کہ اس سے رجوع کر لوں ۔ پھر اسے دوسرے حیض تک اپنے پاس رکھوں اور پھر اسے طہر تک مہلت دوں تب میں اسے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دوں اور اگر تو نے اسے تین طلاقیں دے ڈالیں تو ، تو نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے معاملے میں اپنے اللہ کی نافرمانی کی ۔ اور ایک دوسری روایت میں ہے ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ عورت کو مجھے واپس کر دیا گیا اور اس طلاق کو کچھ بھی نہ سمجھا گیا اور فرمایا گیا کہ جب عورت ایام سے پاک ہو جائے تو ( ابن عمر رضی اللہ عنہما ) طلاق دے یا روک لے ۔
حدیث نمبر: 917
وعن ابن عباس رضى الله عنهما قال : كان الطلاق على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم وأبي بكر وسنتين من خلافة عمر طلاق الثلاث واحدة فقال عمر : إن الناس قد استعجلوا في أمر كانت لهم فيه أناة فلو أمضيناه عليهم فأمضاه عليهم. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` عہدرسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور دور خلافت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو سال تک تین طلاقیں ، ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھیں ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ لوگوں نے ایسے معاملے میں جلدی کی جس میں ان کے لیے سہولت دی گئی تھی ، پس چاہیئے کہ ہم اس کو نافذ کر دیں ۔ لہذا آپ رضی اللہ عنہ نے اس کو ان پر جاری کر دیا ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 918
وعن محمود بن لبيد رضي الله عنه قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : « أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم » حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ رواه النسائي ورواته موثقون.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے ڈالی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ” کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔ “ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی ” یا رسول اللہ ! کیا میں اسے قتل نہ کر ڈالوں ؟ “ نسائی اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 919
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال : طلق أبو ركانة أم ركانة فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « راجع امرأتك » فقال : إني طلقتها ثلاثا؟ قال: « قد علمت راجعها» رواه أبو داود وفي لفظ لأحمد : طلق أبو ركانة امرأته في مجلس واحد ثلاثا فحزن عليها فقال له رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « فإنها واحدة » وفي سندهما ابن إسحاق وفيه مقال وقد روى أبو داود من وجه آخر أحسن منه: أن أبا ركانة طلق امرأته سهيمة ألبتة فقال : والله ما أردت بها إلا واحدة ، فردها إليه النبي صلى الله عليه وآله وسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` ابورکانہ نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ ” ام رکانہ سے رجوع کر لو ۔ “ ابورکانہ رضی اللہ عنہ بولے میں نے اسے تین طلاق دے دی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے معلوم ہے ، تم اس سے رجوع کر لو ۔ “ ( ابوداؤد ) اور مسند احمد کی ایک روایت میں ہے کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دی تھیں ۔ پھر اس پر پشیمان ہوئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابورکانہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا ” وہ تینوں طلاقیں ایک ہی ہیں ۔ “ ان دونوں روایتوں میں ابن اسحٰق ہے جس کے متعلق کلام ہے اور ابوداؤد نے ایک دوسرے طریق سے اسے روایت کیا ہے جو اس سے بہتر ہے وہ یہ کہ ابورکانہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی سھیمہ کو بالکل طلاق دے دی ( یعنی تینوں طلاقیں ) اور پھر کہا کہ بخدا میں نے ایک طلاق کی نیت کی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام رکانہ رضی اللہ عنہا کو واپس لوٹا دیا ۔
حدیث نمبر: 920
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ثلاث جدهن جد وهزلهن جد : النكاح والطلاق والرجعة ». رواه الأربعة إلا النسائي وصححه الحاكم وفي رواية لابن عدي من وجه آخر ضعيف : « الطلاق والنكاح والعتاق ».وللحارث بن أبي أسامة من حديث عبادة بن الصامت رفعه : « لا يجوز اللعب في ثلاث : الطلاق والنكاح والعتاق فمن قالهن فقد وجبن ». وسنده ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تین امور ایسے ہیں کہ ان کی سنجیدگی بھی سنجیدگی ہے اور ان کا مذاق بھی سنجیدگی ہے ۔ نکاح ، طلاق اور رجوع کرنا ۔ “ اسے چاروں نے روایت کیا ہے بجز نسائی کے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابن عدی کی ایک دوسری ضعیف روایت میں ہے ” طلاق ، آزادی اور نکاح ۔ “ اور حارث بن ابی اسامہ کی روایت جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مرفوع مروی ہے ، میں ہے ” تین چیزوں میں مذاق کرنا جائز نہیں طلاق ، نکاح اور آزادی ۔ جو آدمی ان امور کو مذاق سے بھی کہے گا تو وہ واجب ہو جائیں گے ۔ “ اس کی سند ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 921
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إن الله تعالى تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تكلم». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل کے وسوسہ ( پر گرفت و مؤاخذہ ) سے درگزر فرما دیا ہے ۔ اور یہ اس وقت تک نہیں ہو گا جب تک کوئی زبان سے نہ کہے اور عمل نہ کرے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 922
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إن الله وضع عن أمتي الخطأ والنسيان وما استكرهوا عليه » رواه ابن ماجه والحاكم وقال أبو حاتم : لا يثبت.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا ، بھول چوک اور جس پر اسے مجبور کیا گیا ہو معاف فرما دیا ہے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے کہا ہے کہ یہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 923
وعن ابن عباس قال : إذا حرم الرجل امرأته ليس بشيء وقال : لقد كان لكم في رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أسوة حسنة . رواه البخاري. ولمسلم: عن ابن عباس : إذا حرم الرجل امرأته فهو يمين يكفرها.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ ( بخاری ) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی ۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا ۔
حدیث نمبر: 924
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها أن ابنة الجون لما أدخلت على رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ودنا منها قالت : أعوذ بالله منك فقال لها : « لقد عذت بعظيم الحقي بأهلك». رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` جون کی بیٹی جب نکاح کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خلوت گاہ میں داخل کی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے قریب ہوئے تو اس نے کہا میں آپ سے اللہ کی پناہ پکڑتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو نے بڑی عظیم الشان ذات کی پناہ طلب کی ہے ۔ تو اپنے گھر والوں کے ساتھ جا مل ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 925
وعن جابر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا طلاق إلا بعد نكاح ولا عتق إلا بعد ملك ». رواه أبو يعلى وصححه الحاكم وهو معلول وأخرج ابن ماجه عن المسور بن مخرمة مثله وإسناده حسن لكنه معلول أيضا
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں طلاق ، مگر نکاح کے بعد اور اسی طرح آزادی نہیں مگر ملکیت کے بعد ۔ “ اسے ابویعلیٰ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے حالانکہ یہ معلول ہے اور ابن ماجہ نے سیدنا مسور بن مخرمہ کے واسطہ سے اسی جیسی ایک حدیث روایت کی ہے کہ جس کی اسناد تو اچھی ہیں لیکن وہ بھی معلول ہے ۔
حدیث نمبر: 926
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا نذر لابن آدم فيما لا يملك ولا عتق له فيما لا يملك ولا طلاق له فيما لا يملك».أخرجه أبو داود والترمذي وصححه ونقل عن البخاري أنه أصح ما ورد فيه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نذر کی کوئی حیثیت نہیں جس کا انسان مالک نہیں اور نہ ایسے غلام کا آزاد کرنا کوئی حیثیت رکھتا ہے جس کا انسان مالک ہی نہیں اور نہ طلاق واقع ہو گی جو اس کے دینے والے کے اختیار میں نہ ہو ۔ “ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ کا یہ قول نقل کیا ہے ۔ اس سلسلہ میں جو کچھ وارد ہے ، یہ اس میں صحیح ترین ہے ۔
حدیث نمبر: 927
وعن عائشة رضي الله تعالى عنها عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة: عن النائم حتى يستيقظ وعن الصغير حتى يكبر وعن المجنون حتى يعقل أو يفيق». رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي وصححه الحاكم .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تین آدمیوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے ۔ سونے والا جب تک بیدار نہ ہو ، بچہ جب تک بالغ نہ ہو ، دیوانہ جب تک صحیح العقل نہ ہو ۔ “ بروایت امام احمد اور ابوداؤد ، ابن ماجہ و نسائی ۔ حاکم نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے ۔