حدیث نمبر: 818
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: « ما حق امرىء مسلم له شيء يريد أن يوصي فيه يبيت ليلتين إلا ووصيته مكتوبة عنده ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی مسلمان کو یہ لائق نہیں ہے کہ وہ اپنی کسی چیز کو وصیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہو مگر دو راتیں بھی اسی حالت میں گزار دے کہ اس کے پاس وصیت تحریری شکل میں موجود نہ ہو ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 819
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله تعالى عنه قال : قلت : يا رسول الله أنا ذو مال ولا يرثني إلا ابنة لي واحدة أفأتصدق بثلثي مالي ؟ قال : « لا » قلت: أفأتصدق بشطره ؟ قال: « لا » قلت : أفأتصدق بثلثه ؟ قال : « الثلث ، والثلث كثير ، إنك أن تذر ورثتك أغنياء خير من أن تذرهم عالة يتكففون الناس ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں مالدار آدمی ہوں اور میری وارث صرف میری ایک ہی بیٹی ہے ۔ تو کیا میں دو تہائی مال کو صدقہ و خیرات کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں “ میں نے دوبارہ ، عرض کیا ، کیا میں اپنے مال کا نصف حصہ خیرات کر دوں ؟ فرمایا ” نہیں “ میں نے تیسری مرتبہ عرض کیا ، تو کیا میں تہائی مال صدقہ و خیرات کر سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں ! مگر ایک تہائی بھی بہت ہے ۔ تیرا اپنے ورثاء کو غنی چھوڑ جانا اس سے کہیں بہتر ہے کہ تو ان کو محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 820
عن عائشة أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : يا رسول الله إن أمي افتلتت نفسها ولم توص وأظنها لو تكلمت تصدقت أفلها أجر إن تصدقت عنها؟ قال:« نعم». متفق عليه . واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میری والدہ اچانک وفات پا گئی ہیں اور انہوں نے کوئی وصیت نہیں کی ۔ میرا اس کے بارے میں خیال ہے کہ اگر وہ کوئی گفتگو کرتیں تو صدقہ ( ضرور ) کرتیں ۔ کیا انہیں ثواب ملے گا اگر میں ان کی جانب سے صدقہ کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں “ ( بخاری و مسلم ) یہ الفاظ مسلم کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 821
و عن أبي أمامة الباهلي رضي الله تعالى عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه فلا وصية لوارث». رواه أحمد والأربعة إلا النسائي ، وحسنه أحمد والترمذي ، وقواه ابن خزيمة وابن الجارود ، ورواه الدارقطني من حديث ابن عباس رضي الله عنهما وزاد في آخره:« إلا أن يشاء الورثة ». وإسناده حسن.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے کہ ” اللہ تعالیٰ نے ہر حقدار کو اس کا حق عطا فرما دیا ہے لہذا اب کسی وارث کے لیے کوئی وصیت نہیں ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے سوائے نسائی کے روایت کیا ہے ۔ احمد اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن خزیمہ اور ابن جارود نے اسے قوی قرار دیا ہے اور دارقطنی نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے اور اس کے آخر میں اتنا اضافہ بھی کیا ہے ۔ الایہ کہ اس کے وارث چاہیں اور ان کی اسناد حسن ہیں ۔
حدیث نمبر: 822
وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في حسناتكم». رواه الدارقطني وأخرجه أحمد والبزار من حديث أبي الدرداء ، وابن ماجه من حديث أبي هريرة ، وكلها ضعيفة ، لكن قد يقوي بعضها بعضا ، والله أعلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں ۔ ٍ “ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض ، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم»