حدیث نمبر: 805
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ألحقوا الفرائض بأهلها فما بقي فهو لأولى رجل ذكر ».متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” شریعت کے مقرر کردہ حصے ان کے مستحق حصہ داروں کو ادا کر دو اور پھر جو کچھ باقی بچ جائے اسے سب سے قریبی مرد وارث کو دے دو ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 806
وعن أسامة بن زيد رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال:« لا يرث المسلم الكافر ، ولا يرث الكافر المسلم». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو گا اور نہ ہی کافر مسلمان کا وارث ہو گا ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 807
وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه ، في بنت ، وبنت ابن ، وأخت : قضى النبي صلى الله عليه وآله وسلم:« للابنة النصف ولابنة الابن السدس تكملة الثلثين وما بقى فللأخت ». رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی ، پوتی اور بہن کی موجودگی میں فیصلہ فرمایا کہ ” دو تہائی پورا کرنے کے لیے بیٹی کو آدھا ترکہ اور پوتی کے لیے چھٹا حصہ ہو گا ، پھر جو باقی بچے وہ بہن کا ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 808
وعن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا يتوارث أهل ملتين». رواه أحمد والأربعة إلا الترمذي ، وأخرجه الحاكم بلفظ أسامة ، وروى النسائي حديث أسامة بهذا اللفظ.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دو مختلف دین کے پیروکار ایک دوسرے کے وارث نہیں ہو سکتے ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے سوائے ترمذی کے اور حاکم نے ان الفاظ سے نقل کی ہے جو اسامہ کی حدیث کے ہیں اور نسائی نے اسامہ کی حدیث کو ان الفاظ میں بیان کی ہے ۔ ( یعنی جو ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث کے ہیں ) ۔
حدیث نمبر: 809
وعن عمران بن حصين رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : إن ابن ابني مات فما لي من ميراثه ؟ فقال : « لك السدس » فلما ولى دعاه فقال : « لك سدس آخر » فلما ولى دعاه فقال : « إن السدس الآخر طعمة ». رواه أحمد والأربعة وصححه الترمذي وهو من رواية الحسن البصري عن عمران وقيل : إنه لم يسمع منه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میرا پوتا وفات پا گیا ہے ۔ اس کے ترکہ میراث میں میرا حصہ کتنا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ تجھے چھٹا حصہ ملے گا ۔ “ پھر جب وہ جانے لگا تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور فرمایا ’’ تیرے لئے مزید چھٹا حصہ ہے ۔ “ پھر جب وہ جانے لگا تو اس کو بلایا اور فرمایا کہ ’’ دوسرا چھٹا حصہ تیرے لئے رزق ہے ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے صحیح کہا ہے اور یہ روایت حسن بصری نے بھی عمران رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے مگر یہ کہا گیا ہے کہ حسن بصری کا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے سماع ثابت نہیں ۔
حدیث نمبر: 810
وعن ابن بريدة عن أبيه رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم جعل للجدة السدس إذا لم يكن دونها أم. رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن خزيمة وابن الجارود وقواه ابن عدي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن بریدہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دادی کے لئے چھٹا حصہ مقرر فرمایا جب کہ درمیان میں اس کی ماں نہ ہو ۔ ابوداؤد ، نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ ، ابن جارود نے صحیح قرار دیا ہے اور ابن عدی نے اسے قوی قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 811
وعن المقدام بن معديكرب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «الخال وارث من لا وارث له ».أخرجه أحمد والأربعة سوى الترمذي وحسنه أبو زرعة الرازي وصححه الحاكم و ابن حبان .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ماموں اس کا وارث ہو گا جس کا کوئی وارث زندہ نہ بچا ہو ۔ “ اس حدیث کو احمد اور چاروں نے بیان کیا ہے سوائے ترمذی کے ۔ ابوزرعہ رازی نے اسے حسن کہا ، حاکم اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 812
وعن أبي أمامة بن سهل رضي الله عنه قال : كتب عمر إلى أبي عبيدة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « الله ورسوله مولى من لا مولى له والخال وارث من لا وارث له ». رواه أحمد والأربعة سوى أبي داود وحسنه الترمذي وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے میرے ذریعہ ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ” اللہ اور اس کا رسول ہر اس کا مولیٰ ہے جس کا کوئی مولیٰ نہ ہو اور جس کا کوئی وارث نہ ہو ماموں اس کا وارث ہے ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے سوائے ابوداؤد کے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 813
وعن جابر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا استهل المولود ورث ». رواه أبو داود وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب نومولود بچہ آواز نکالے تو وہ وارث قرار پاتا ہے ۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 814
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ليس للقاتل من الميراث شيء ». رواه النسائي والدارقطني وقواه ابن عبد البر وأعله النسائي . والصواب وقفه على عمرو.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قاتل کو مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ “ اسے نسائی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن عبدالبر نے اسے قوی قرار دیا ہے ۔ مگر نسائی نے اسے معلول کہا ہے ۔ دراصل یہ روایت موقوف ہے یعنی عمرو پر موقوف ہونا صحیح کہا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 815
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « ما أحرز الوالد أو الولد فهو لعصبته من كان ». رواه أبو داود والنسائي وابن ماجه وصححه ابن المديني وابن عبد البر.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ارشاد فرماتے سنا ہے ” والد یا اولاد جو کچھ جمع کر کے اپنے گھر میں لائے تو وہ اس کے عصبہ کے لئے ہے خواہ عصبہ کوئی بھی ہو ۔ “ اسے ابوداؤد ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ ابن مدینی اور ابن عبدالبر نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 816
وعن عبد الله بن عمر رضي الله تعالى عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « الولاء لحمة كلحمة النسب لا يباع ولا يوهب ». رواه الحاكم من طريق الشافعي عن محمد بن الحسن عن أبي يوسف وصححه ابن حبان وأعله البيهقي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ولاء کا تعلق نسب کے تعلق کی طرح ہے ۔ جسے نہ فروخت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے ۔ “ اسے حاکم نے بطریق شافعی محمد بن حسن سے اور انہوں نے ابویوسف سے روایت کیا ہے ۔ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بیہقی نے اسے معلول کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 817
وعن أبي قلابة عن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أفرضكم زيد بن ثابت». أخرجه أحمد والأربعة سوى أبي داود وصححه الترمذي وابن حبان والحاكم وأعل بالإرسال.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوقلابہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سب سے زیادہ میراث کو جاننے والا زید بن ثابت ہے ۔ “ اس حدیث کو احمد اور چاروں نے ماسوا ابوداؤد کے روایت کیا ہے ۔ ترمذی ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے لیکن اسے مرسل ہونے کی بنا پر معلول قرار دیا گیا ہے ۔