حدیث نمبر: 751
عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «على اليد ما أخذت حتى تؤديه ». رواه أحمد والأربعة وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو کچھ ہاتھ نے لیا ہے جب تک اسے ادا نہ کر دے اس کے ذمہ ہے ۔ “ اسے احمد اور چاروں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 752
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أد الأمانة إلى من ائتمنك ولا تخن من خانك ». رواه أبو داود والترمذي وحسنه وصححه الحاكم واستنكره أبو حاتم الرازي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے تمہارے پاس امانت رکھی ہو تو اسے امانت واپس کر دو اور جس نے تیرے ساتھ خیانت کی تو اس کے ساتھ خیانت نہ کر ۔ “ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ابوحاتم رازی نے اسے منکر سمجھا ہے ۔
حدیث نمبر: 753
وعن يعلى بن أمية رضي الله عنه قال : قال لي رسول صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا أتتك رسلي فأعطهم ثلاثين درعا » قلت : يا رسول الله أعارية مضمونة أو عارية مؤداة ؟ قال :« بل عارية مؤداة ». رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ارشاد فرمایا کہ ” تمہارے پاس جب میرے ایلچی و قاصد آئیں تو ان کو تیس زرہیں دے دینا ۔ “ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا عاریتاً جس میں ضمانت ہو گی یا اس ادھار کے طور پر جو قابل واپسی ہو گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ایسا ادھار جو ادا کر دیا جائے گا ۔ “ اسے احمد ، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 754
وعن صفوان بن أمية رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم استعار منه دروعا يوم حنين فقال : أغصب يا محمد ؟ قال : « بل عارية مضمونة ». رواه أبو داود وأحمد والنسائي وصححه الحاكم. وأخرج له شاهدا ضعيفا عن ابن عباس رضي الله عنهما .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقع پر اس ( صفوان ) سے کچھ زرہیں عاریتاً لیں ۔ اس نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! کیا آپ زبردستی غصب کر رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں ! بلکہ ضمانت کے ساتھ عاریتاً لے رہا ہوں ۔ “ اسے ابوداؤد ، نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور ایک ضعیف روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما کی بھی بطور شہادت ہے ۔