حدیث نمبر: 688
وعن أبي مسعود رضي الله تعالى عنه ، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا تشتروا السمك في الماء ، فإنه غرر» رواه أحمد ، وأشار إلى أن الصواب وقفه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانی میں موجود مچھلی کو نہ خریدو ، کیونکہ یہ دھوکا ہے ۔ “ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور اس طرف اشارہ بھی کر دیا ہے کہ اس روایت کا موقوف ہونا قرین صواب ہے ۔
حدیث نمبر: 689
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن تباع ثمرة حتى تطعم ، ولا يباع صوف على ظهر ، ولا لبن في ضرع. رواه الطبراني في الأوسط والدارقطني ، وأخرجه أبوداود في المراسيل لعكرمة ، وهو الراجح ، وأخرجه أيضا موقوفا على ابن عباس ، بإسناد قوي ، ورجحه البيهقي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھلوں کے ( پکنے اور ) کھانے کے قابل ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے ، نیز جانوروں کی پشت پر اون اور تھنوں میں دودھ کی فروخت کو منع فرمایا ہے ۔ اس روایت کو طبرانی نے اپنی اوسط میں اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد نے عکرمہ کی مراسیل میں بیان کیا اور یہی راجح ہے اور اسے ابوداؤد نے ابن عباس رضی اللہ عنہا سے موقوف قوی سند کے ساتھ بھی روایت کیا ہے اور بیہقی نے اس کو ترجیح دی ہے ۔
حدیث نمبر: 690
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه ، أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع المضامين والملاقيح. رواه البزار ، وفي إسناده ضعف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مضامین اور ملاقیح کی خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے ۔ اسے بزار نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے ۔
حدیث نمبر: 691
وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم:«من أقال مسلما بيعته أقال الله عثرته». رواه أبو داود وابن ماجه ، وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو فروخت کنندہ ، کسی مسلمان سے فروخت شدہ مال واپس کر لے ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ و لغزشیں معاف فرما دے گا ۔ “ اسے ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے صحیح کہا ہے ۔