حدیث نمبر: 527
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم :« لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين ، إلا رجل كان يصوم صوما فليصمه». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کوئی بھی رمضان سے پہلے ایک یا دو روزے نہ رکھے ، مگر جو شخص پہلے سے روزہ رکھتا آ رہا ہو اسے چاہیئے کہ اس دن کا روزہ رکھ لے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 528
وعن عمار بن ياسر رضي الله عنه قال : من صام اليوم الذي يشك فيه ، فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه وآله وسلم. وذكره البخاري تعليقا ، ووصله الخمسة ، وصححه ابن خزيمة وابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` جس شخص نے مشکوک دن میں روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کی ۔ بخاری نے اسے تعلیقا اور پانچوں نے اسے موصولاً ذکر کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 529
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « إذا رأيتموه فصوموا وإذا رأيتموه فأفطروا ، فإن غم عليكم فاقدروا له ». متفق عليه ولمسلم : « فإن أغمى عليكم فاقدروا له ثلاثين ». وللبخاري: «فأكملوا العدة ثلاثين». وله في حديث أبي هريرة : « فأكملوا عدة شعبان ثلاثين».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ” جب تم چاند دیکھ لو تو روزہ رکھو اور ( عید کے لیے ) چاند دیکھ لو تو افطار کر دو ۔ اگر مطلع ابر آلود ہو تو اس کے لیے اندازہ لگا لو ۔ “ ( متفق علیہ ) مسلم کے الفاظ ہیں ” اگر مطلع ابر آلود ہو تو پھر اس کے لیے تیس دن کی گنتی کا اندازہ رکھو ۔ “ اور بخاری کے الفاظ ہیں ” پھر تیس روز کی گنتی اور تعداد پوری کرو ۔ “ اور بخاری میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے ” پھر تم شعبان کے تیس دن پورے کرو ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 530
وعن ابن عمررضي الله عنهما قال : تراءى الناس الهلال ، فأخبرت النبي صلى الله عليه وآله وسلم أني رأيته ، فصام ، وأمر الناس بصيامه. رواه أبو داود ، وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` لوگوں نے چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بھی روزہ رکھا اور لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم دیا ۔ اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 531
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن أعرابيا جاء إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : إني رأيت الهلال فقال :« أتشهد أن لا إله إلا الله ؟ » قال : نعم ، قال: « أتشهد أن محمدا رسول الله ؟ » قال : نعم قال : « فأذن في الناس يا بلال أن يصوموا غدا ». رواه الخمسة وصححه ابن خزيمة وابن حبان ورجح النسائي إرساله.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` ایک اعرابی ( دیہاتی ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے چاند دیکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا ” کیا تو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ اللہ کے سوا دوسرا کوئی الٰہ نہیں ؟ “ اس نے کہا ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ “ اس نے کہا ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بلال اٹھو اور لوگوں میں منادی کر دو کہ کل روزہ رکھا جائے ۔ “ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے ۔
حدیث نمبر: 532
وعن حفصة أم المؤمنين رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من لم يبيت الصيام قبل الفجر فلا صيام له ».رواه الخمسة ومال الترمذي والنسائي إلى ترجيح وقفه وصححه مرفوعا ابن خزيمة وابن حبان. وللدارقطني : « لا صيام لمن لم يفرضه من الليل».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سے مروی کہ` نبی کریم صلی اللہ وسلم نے فرمایا ” جس شخص نے صبح صادق سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں ۔ “ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ ترمذی اور نسائی کا رجحان اس کے موقوف ہونے کی طرف ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اس کا مرفوع ہونا صحیح قرار دیا ہے اور دارقطنی کی روایت میں ہے ” جس نے رات کو اپنے آپ پر واجب نہ کر لیا اس کا کوئی روزہ نہیں ۔ “
حدیث نمبر: 533
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : دخل علي النبي صلى الله عليه وآله وسلم ذات يوم فقال : « هل عندكم شيء ؟» قلنا : لا قال : « فإني إذا صائم » ثم أتانا يوما آخر فقلنا أهدي لنا حيس فقال : « أرينيه فلقد أصبحت صائما » فأكل. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور دریافت فرمایا کہ ” کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ “ ہم نے عرض کیا ، نہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اچھا تو میں روزہ سے ہوں “ اس کے بعد پھر ایک روز تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ حلوہ کا تحفہ ہمیں ( کہیں سے ) دیا گیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ذرا مجھے تو دکھاؤ صبح سے میں روزے سے تھا ۔ “ ( یہ فرما کر ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلوہ تناول فرما لیا ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 534
وعن سهل بن سعد رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر » متفق عليه. وللترمذي من حديث أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « قال الله عز وجل : أحب عبادي إلي أعجلهم فطرا».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” لوگ اس وقت تک بھلائی پر قائم رہیں گے جب تک روزہ افطار کرنے میں جلدی کریں گے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور ترمذی میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے میرے بندوں میں میرے محبوب و پسندیدہ بندے وہ ہیں جو افطار کرنے میں عجلت سے کام لیتے ہیں ۔ “
حدیث نمبر: 535
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « تسحروا فإن في السحور بركة » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سحری کھایا کرو اس لئے کہ اس میں بڑی برکت ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 536
وعن سلمان بن عامر الضبي رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا أفطر أحدكم فليفطر على تمر فإن لم يجد فليفطر على ماء فإنه طهور». رواه الخمسة وصححه ابن خزيمة وابن حبان والحاكم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سلمان بن عامر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے کھجور سے افطار کرنا چاہیئے ۔ پھر اگر کھجور دستیاب نہ ہو سکے تو پانی سے افطار کر لے اس لئے کہ وہ پاک ہے ۔ “
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ ابن خزیمہ ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ ابن خزیمہ ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 537
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الوصال فقال رجل من المسلمين : فإنك تواصل يا رسول الله؟ فقال : «وأيكم مثلي ؟ إني أبيت يطعمني ربي ويسقيني » فلما أبوا أن ينتهوا عن الوصال واصل بهم يوما ثم يوما ثم رأوا الهلال فقال : « لو تأخر الهلال لزدتكم » كالمنكل لهم حين أبوا أن ينتهوا. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وصال سے منع فرمایا مسلمانوں میں سے ایک صاحب نے سوال کیا کہ اللہ کے رسول ! آپ خود تو وصال فرماتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے میرے جیسا کون ہے ؟ میں تو اس حال میں رات گزارتا ہوں کہ میرا پروردگار مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے ۔ “ جب لوگوں نے وصال سے باز آنے سے انکار کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایک دن پھر دوسرے دن کا وصال کیا ۔ پھر انہوں نے چاند کو دیکھ لیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اگر چاند آج نظر نہ آتا تو میں تمہارے لئے زیادہ دن وصال کرتا ۔ “ گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اس سے باز نہ رہنے کی وجہ سے سزا دے رہے تھے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 538
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم :« من لم يدع قول الزور ، والعمل به ، والجهل ، فليس لله حاجة في أن يدع طعامه وشرابه ». رواه البخاري وأبو داود واللفظ له.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس نے جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہ چھوڑا اور حماقت و بیوقوفی کو ترک نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو اس کے کھانے پینے کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ۔ “ ( بخاری و ابوداؤد ) اور الفاظ ابوداؤد کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 539
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقبل وهو صائم ويباشر وهو صائم ولكنه كان أملككم لإربه . متفق عليه؛ واللفظ لمسلم ، وزاد في رواية : في رمضان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لے لیتے تھے اور معانقہ بھی فرما لیتے تھے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری نسبت اپنی طبیعت پر زیادہ کنٹرول اور ضبط کرنے والے تھے ۔ ( بخاری و مسلم ) یہ الفاظ مسلم کے ہیں اور ایک روایت میں اتنا اضافہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دونوں فعل رمضان میں کرتے تھے ۔
حدیث نمبر: 540
وعن ابن عباس رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم احتجم وهو محرم واحتجم وهو صائم. رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام اور روزے کی حالت میں پچھنے لگوائے ۔ ( بخاری )
حدیث نمبر: 541
وعن شداد بن أوس رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتى على رجل بالبقيع وهو يحتجم في رمضان فقال : « أفطر الحاجم والمحجوم ». رواه الخمسة إلا الترمذي وصححة أحمد وابن خزيمة وابن حبان
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بقیع میں ایک ایسے شخص کے پاس تشریف لائے جو رمضان میں پچھنے لگوا رہا تھا ۔ اس کو دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” سینگی ( پچھنے ) لگانے اور لگوانے والے دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ “
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ احمد ، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
بجز ترمذی اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ احمد ، ابن خزیمہ اور ابن حبان تینوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 542
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : أول ما كرهت الحجامة للصائم أن جعفر بن أبي طالب احتجم وهو صائم فمر به النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : « أفطر هذان» ثم رخص النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد في الحجامة للصائم. وكان أنس يحتجم وهو صائم. رواه الدارقطني وقواه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ` سب سے پہلے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانا اس لئے مکروہ ہوئی کہ جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے روزہ کی حاجت میں سینگی لگوائی ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان دونوں کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ “ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ دار کے لئے سینگی لگوانے کی رخصت دے دی اور انس رضی اللہ عنہ روزہ کی حالت میں سینگی لگواتے تھے ۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کو قوی کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 543
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم اكتحل في رمضان وهو صائم. رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف وقال الترمذي : لا يصح في هذا الباب شيء.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں روزہ کی حالت میں سرمہ لگایا ۔ اسے ابن ماجہ نے بیان کیا ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث بھی صحیح نہیں ۔
حدیث نمبر: 544
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من نسى وهو صائم فأكل أو شرب فليتم صومه فإنما أطعمه الله وسقاه » متفق عليه وللحاكم : « من أفطر في رمضان ناسيا فلا قضاء عليه ولا كفارة ». وهو صحيح.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو روزہ دار بھول کر کچھ کھایا پی لے تو اسے چاہیئے کہ اپنا روزہ پورا کر لے کیونکہ اسے اللہ تعالیٰ نے کھلایا پلایا ہے “ ( بخاری و مسلم ) اور امام حاکم سے یوں روایت ہے کہ ” اگر کوئی بھول کر رمضان میں روزہ کھول لے تو اس پر قضاء اور کفارہ نہیں ۔ “ اور یہ حدیث صحیح ہے ۔
حدیث نمبر: 545
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «من ذرعه القيء فلا قضاء عليه ومن استقاء فعليه القضاء ». رواه الخمسة وأعله أحمد وقواه الدارقطني.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جسے قے آ جائے تو اس پر ( روزہ کی ) قضاء نہیں اور جو جان بوجھ کر قے کرے اس پر قضاء ہے ۔ “ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد نے اس کو معلول کہا ہے اور امام دارقطنی نے اسے قوی کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 546
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خرج عام الفتح إلى مكة في رمضان فصام حتى بلغ كراع الغميم فصام الناس ثم دعا بقدح من ماء فرفعه حتى نظر الناس إليه ثم شرب فقيل له بعد ذلك إن بعض الناس قد صام ؟ فقال : « أولئك العصاة ، أولئك العصاة » وفي لفظ : فقيل له إن الناس قد شق عليهم الصيام وإنما ينظرون فيما فعلت فدعا بقدح من ماء بعد العصر فشرب. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال مکہ مکرمہ کی طرف رمضان میں نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کراع الغمیم ( ایک جگہ کا نام ) پہنچے ۔ اس دن لوگوں نے بھی روزہ رکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا پیالہ منگوایا اور اس کو اتنا اونچا کیا کہ لوگوں نے دیکھ لیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پی لیا ۔ پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بعض لوگوں نے روزہ رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ یہی لوگ نافرمان ہیں ، یہی لوگ نافرمان ہیں ۔ ‘‘ اور ایک حدیث کے الفاظ یوں ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ بیشک لوگوں کو روزہ نے مشقت میں ڈال دیا ہے اور اس کے سوا اور کوئی بات نہیں کہ وہ آپ کے عمل کا انتظار کر رہے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا پیالہ منگوایا اور پی لیا ۔
حدیث نمبر: 547
وعن حمزة بن عمرو الأسلمي رضي الله عنه أنه قال : يا رسول الله أجد بي قوة على الصيام في السفر فهل علي جناح ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « هي رخصة من الله فمن أخذ بها فحسن ومن أحب أن يصوم فلا جناح عليه». رواه مسلم وأصله في المتفق عليه من حديث عائشة ، أن حمزة بن عمرو سأل.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہوں ( اگر میں روزہ رکھ لوں ) تو کیا مجھ پر کوئی حرج ہے ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے جو اس کو لے لے تو بہتر ہے اور جو کوئی روزہ رکھنا پسند کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں ۔ “ ( مسلم ) اور اس حدیث کا اصل سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی متفق علیہ حدیث میں یوں ہے کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے سوال کیا ۔
حدیث نمبر: 548
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : رخص للشيخ الكبير أن يفطر ويطعم عن كل يوم مسكينا ولا قضاء عليه. رواه الدراقطني والحاكم وصححاه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` بڑی عمر والے بوڑھے کو رخصت دی گئی ہے کہ وہ افطار کرے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلائے اور اس پر قضاء نہیں ہے ۔ اسے دارقطنی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 549
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : هلكت يا رسول الله قال: « وما أهلكك ؟ » قال : وقعت على امرأتي في رمضان فقال : « هل تجد ما تعتق رقبة ؟ » قال : لا ، قال : «فهل تستطيع أن تصوم شهرين متتابعين ؟ » قال : لا ، قال : « فهل تجد ما تطعم ستين مسكينا ؟ » قال : لا ، ثم جلس فأتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعرق فيه تمر فقال :« تصدق بهذا » فقال: أعلى أفقر منا ؟ فما بين لابتيها أهل بيت أحوج منا فضحك النبي صلى الله عليه وآله وسلم حتى بدت أنيابه ثم قال : « اذهب فأطعمه أهلك ». رواه السبعة واللفظ لمسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ اے اللہ کے رسول ! میں ہلاک ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کس چیز نے تجھے ہلاک کیا ؟ “ اس نے کہا میں رمضان میں اپنی عورت سے مباشرت کر بیٹھا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تجھ میں اتنی طاقت ہے کہ ایک گردن کو آزاد کر دے ؟ “ اس نے کہا نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ دو ماہ کے متواتر روزے رکھے ؟ “ اس نے کہا ، نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تیرے پاس اتنا مال ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکے ؟ “ اس نے کہا نہیں ۔ پھر وہ بیٹھ گیا ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ٹوکرا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ان کو خیرات کر دو ۔ “ اس نے کہا کیا اپنے سے زیادہ محتاج پر ( خیرات کروں ) ؟ کیونکہ دو سنگلاخ پہاڑوں ( مدینہ ) کے مابین کوئی گھر والا ہم سے زیادہ محتاج نہیں ۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھیں ظاہر ہو گئیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جاؤ اسے اپنے گھر والوں کو کھلا دو ۔ “ اسے ساتوں نے روایت کیا ہے اور الفاظ مسلم کے ہیں ۔
حدیث نمبر: 550
وعن عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما ، أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يصبح جنبا من جماع ثم يغتسل ويصوم. متفق عليه ، وزاد مسلم في حديث أم سلمة: " ولا يقضي ".
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جماع سے جنبی ہوتے تو صبح ہونے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کرتے اور روزہ رکھتے ۔ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں یہ زائد کیا کہ قضاء نہیں دیتے تھے ۔
حدیث نمبر: 551
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من مات وعليه صيام صام عنه وليه ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص فوت ہو جائے اور اس پر روزہ لازم ہو تو اس کی طرف سے اس کا ولی روزہ رکھے ۔ “ ( بخاری و مسلم )