حدیث نمبر: 483
عن ابن عباس رضي الله عنهما : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث معاذا إلى اليمن فذكر الحديث وفيه : « إن الله قد افترض عليهم صدقة في أموالهم تؤخذ من أغنيائهم فترد في فقرائهم». متفق عليه واللفظ للبخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف روانہ فرمایا ، پھر ساری حدیث بیان کی جس میں ہے ” اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر زکوٰۃ فرض کی گئی ہے ، جو ان کے مالداروں سے وصول کی جائے اور انہیں کے محتاجوں اور غریبوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 484
وعن أنس أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه كتب له : هذه فريضة الصدقة التي فرضها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على المسلمين والتي أمر الله بها رسوله : « في كل أربع وعشرين من الإبل فما دونها الغنم : في كل خمس شاة فإذا بلغت خمسا وعشرين إلى خمس وثلاثين فيها بنت مخاض أثنى فإن لم تكن فابن لبون ذكر فإذا بلغت ستا وثلاثين إلى خمس وأربعين ففيها بنت لبون أنثى فإذا بلغت ستا وأربعين إلى ستين ففيها حقة طروق الجمل فإذا بلغت واحدة وستين إلى خمس وسبعين ففيها جذعة فإذا بلغت ستا وسبعين إلى تسعين ففيها بنتا لبون فإذا بلغت إحدى وتسعين إلى عشرين ومائة ففيها حقتان طروقتا الجمل فإذا زادت على عشرين ومائة ففي كل أربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة ومن لم يكن معه إلا أربع من الإبل فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها . وفي صدقة الغنم في سائمتها إذع كانت أربعين إلى عشرين ومائة شاة شاة فإذا زادت على عشرين ومائة إلى مائتين ففيها شاتان فإذا زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث شياه فإذا زادت على ثلاثمائة ففي كل مائة شاة . فإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من أربعين شاة شاة واحدة فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خلطين فإنهما تتراجعان بينهما بالسوية ولا يخرج في الصدقة هرمة ولا ذات عوار ولا تيس إلا أن يشاء المصدق وفي الرقة : في مائتي درهم ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها ومن بلغت عنده من الإبل صدقة الجذعة ، وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه ويجعل معها شاتين إن استيسرتا له أو عشرين درهما ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة فإنها تقبل منه الجذعة ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين ». رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو فریضہ زکٰوۃ کے سلسلہ میں یہ تحریر لکھ کر دی تھی ۔ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں پر مقرر فرمایا تھا اور جس کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا تھا کہ اونٹوں کی چوبیس یا اس سے کم تعداد پر بکریاں ہیں ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ، جب تعداد پچیس سے بڑھ کر پینتیس ہو جائے تو اس تعداد پر ایک سالہ اونٹنی ۔ اگر میسر نہ ہو تو پھر دو سالہ نر بچہ اور جب چھتیس سے تعداد بڑھ کر پینتالیس تک پہنچ جائے تو ان میں دو سالہ اونٹنی اور جب چھیالیس سے بڑھ کر ساٹھ تک تعداد پہنچ جائے تو ان میں تین سالہ جوان اونٹ جفتی کے قابل اونٹنی اور جب اکسٹھ سے بڑھ کر پچھتر تک پہنچ جائے تو ان میں چار سالہ اونٹ اور جب چھہتر سے تعداد بڑھ کر نوے ہو جائے تو ان میں دو ‘ دو سالہ دو اونٹنیاں اور پھر اکانوے سے بڑھ کر تعداد ایک سو بیس تک پہنچ جائے تو ان میں تین ‘ تین سالہ دو جوان اونٹنیاں ۔ جو اونٹ کی جفتی کے قابل ہوں ۔ اور جب تعداد ایک سو بیس سے زائد ہو جائے تو پھر ہر چالیس اونٹوں پر ایک دو سالہ اونٹنی اور ہر پچاس پر تین سالہ اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہوں تو اس تعداد پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ ان کا مالک چاہے اور بکریوں کی زکٰوۃ کہ جو باہر چرنے جاتی ہوں ‘ چالیس سے لے کر ایک سو بیس کی تعداد پر صرف ایک بکری زکٰوۃ میں وصول کی جائے گی ۔ جب یہ تعداد ایک سو بیس سے بڑھ کر دو سو تک پہنچ جائے گی تو دو بکریاں زکٰوۃ میں وصول کی جائیں گی ۔ پھر جب دو سو سے بڑھ کر تین سو تک پہنچ جائے گی تو تین بکریاں وصول کی جائیں گی ۔ جب تعداد تین سو سے بڑھ جائے گی تو ہر سو بکری پر ایک بکری زکٰوۃ وصول کی جائے گی ‘ اگر کسی کی باہر جنگل میں چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم تعداد میں ہوں تو مالک پر کوئی زکٰوۃ نہیں الایہ کہ مالک چاہے ۔ زکٰوۃ کے ڈر سے نہ تو الگ الگ چرنے والیوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ ہی اکٹھی چرنے والیوں کو الگ الگ ۔ اور جو جانور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہوں وہ مساوی طور پر زکٰوۃ کا حصہ نکالیں ۔ زکٰوۃ کی مد میں بوڑھا اور نہ یک چشم جانور اور نہ سانڈ لیا جائے الایہ کہ زکٰوۃ دینے والا خود چاہے ۔ اور چاندی کے سکوں کا نصاب دو سو درہم ہے اس میں سے چالیسواں حصہ زکٰوۃ ہے ۔ اگر کسی کے پاس دو سو درہم سے ایک درہم بھی کم ہے تو اس پر زکٰوۃ واجب نہیں الایہ کہ اس کا مالک خود دینا چاہے ۔ اور جس کے اونٹوں کی زکٰوۃ میں چار سالہ اونٹ واجب الوصول ہو اور اس کے پاس اس عمر کا اونٹ نہ ہو اور اس کے پاس تین سالہ ہو جوان اونٹنی تو اس سے دو بکریاں اور تین سالہ جفتی کے لائق جوان اونٹنی وصول کی جائے بشرطیکہ بکریاں بآسانی دستیاب ہو سکیں یا بیس درہم دینا ہوں گے اور جس کی زکٰوۃ میں تین سالہ جوان اونٹنی آتی ہو اور اس کے پاس چار سالہ اونٹ ہو تو اس سے وہی چار سالہ اونٹ ہی وصول کر لیا جائے گا مگر زکٰوۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس دے گا ( بخاری )
حدیث نمبر: 485
وعن معاذ بن جبل رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعثه إلى اليمن ، فأمره أن يأخذ من كل ثلاثين بقرة تبيعا أو تبيعة ، ومن كل أربعين مسنة ، ومن كل حالم دينارا ، أو عدله معافريا. رواه الخمسة واللفظ لأحمد وحسنه الترمذي وأشار إلى اختلاف في وصله ، وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یمن کی طرف ( عامل مقرر کر کے ) بھیجا ۔ ان کو حکم دیا کہ وہ تیس گائیوں پر ایک سالہ مادہ گائے یا نر بچھڑا وصول کریں اور ہر چالیس کی تعداد پر ایک دو سالہ بچھڑا لیا جائے اور ہر نوجوان سے ایک دینار یا معافری کپڑا لیا جائے ۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ متن حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے موصول ہونے کے بارے میں اختلاف کا اشارہ کیا ہے ۔ ابن حبان اور حاکم دونوں نے اسے صحیح کہا ہے ۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے ۔ متن حدیث کے الفاظ احمد کے ہیں اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور اس کے موصول ہونے کے بارے میں اختلاف کا اشارہ کیا ہے ۔ ابن حبان اور حاکم دونوں نے اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 486
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « تؤخذ صدقات المسلمين على مياههم ». رواه أحمد. ولأبي داود: « ولا تؤخذ صدقاتهم إلا في دورهم».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ” مسلمانوں سے زکوٰۃ ان کے پانی پلانے کی جگہوں پر وصول کی جائے گی ۔ “
احمد ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے صدقات ان کے گھروں ہی پر حاصل کیے جائیں گے ۔
احمد ، اور ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ مسلمانوں کے صدقات ان کے گھروں ہی پر حاصل کیے جائیں گے ۔
حدیث نمبر: 487
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ليس على المسلم في عبده ولا في فرسه صدقة ». رواه البخاري . ولمسلم: « ليس في العبد صدقة إلا صدقة الفطر».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” مسلمان پر نہ اس کے غلام میں زکوٰۃ ہے اور نہ اس کے گھوڑے میں ۔ “ ( بخاری )
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ” غلام میں زکوٰۃ نہیں مگر صدقہ فطر ہے ۔ “
اور مسلم کی روایت میں ہے کہ ” غلام میں زکوٰۃ نہیں مگر صدقہ فطر ہے ۔ “
حدیث نمبر: 488
وعن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده رضي الله عنهم قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « في كل سائمة إبل في أربعين بنت لبون لا تفرق إبل عن حسابها من أعطاها مؤتجرا بها فله أجرها ومن منعها فإنا آخذوها وشطر ماله عزمة من عزمات ربنا لا يحل لآل محمد منها شيء ». رواه أحمد وأبو داود والنسائي وصححه الحاكم وعلق الشافعي القول به على ثبوته.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا بہز بن حکیم رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ چرنے والے تمام اونٹوں میں چالیس پر ایک ، دو سالہ اونٹنی ہے اور اونٹوں کو ان کے حساب سے جدا نہ کیا جائے گا اور جو شخص حصول ثواب کی نیت سے زکٰوۃ ادا کرے گا اس کو اس کا ثواب بھی ملے گا اور جس نے زکٰوۃ روک لی تو ہم زکٰوۃ زبردستی وصول کریں گے اور اس کا کچھ مال بھی ، ہمارے پروردگار کے فرائض میں سے ایک لازمی حصہ ہے ، ان میں سے کوئی چیز بھی آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں ہے ۔ ‘‘
اسے احمد ، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور شافعی نے اس کے ثابت ہونے پر اپنے قول کو معلق رکھا ہے ۔
اسے احمد ، ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور شافعی نے اس کے ثابت ہونے پر اپنے قول کو معلق رکھا ہے ۔
حدیث نمبر: 489
وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا كانت لك مائتا درهم وحال عليها الحول ففيها خمسة دراهم وليس عليك شيء حتى يكون لك عشرون دينارا وحال عليها الحول ففيها نصف دينار فما زاد فبحساب ذلك وليس في مال زكاة حتى يحول عليه الحول ». رواه أبو داود ، وهو حسن ، وقد اختلف في رفعه.وللترمذي عن ابن عمر رضي الله عنهما : من استفاد مالا فلا زكاة عليه حتى يحول عليه الحول . والراجح وقفه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تیرے پاس دو سو درہم ہوں اور ان پر پورا سال گذر جائے تو ان میں پانچ درہم زکوٰۃ ہے ۔ جب تک تیرے پاس بیس دینار نہ ہوں اور ان پر پورا سال گزر نہ جائے ، اس وقت تک تجھ پر کوئی چیز نہیں ۔ جب بیس دینار ہوں تو ان میں نصف دینار زکوٰۃ ہے ۔ جو اس سے زیادہ ہو گا تو اسی حساب سے زکوٰۃ ہو گی ۔ کسی بھی مال پر اس وقت تک زکوٰۃ نہیں جب تک اس پر پورا سال نہ گزر جائے ۔ “
ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور یہ حسن ہے ۔ اس کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے ۔ اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو مالی سال کے دوران حاصل ہو اس پر بھی سال گزرنے سے پہلے کوئی زکوٰۃ نہیں اور راجح یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے ۔
ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور یہ حسن ہے ۔ اس کے مرفوع ہونے میں اختلاف ہے ۔ اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ جو مالی سال کے دوران حاصل ہو اس پر بھی سال گزرنے سے پہلے کوئی زکوٰۃ نہیں اور راجح یہی ہے کہ یہ روایت موقوف ہے ۔
حدیث نمبر: 490
وعن علي رضي الله عنه قال : ليس في البقر العوامل صدقة . رواه أبو داود والدارقطني ، والراجح وقفه أيضا.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` کام کرنے والے بیلوں پر زکٰوۃ واجب نہیں ۔
اسے ابوداؤد اور دارقطنی نے روایت کیا ہے ۔ راجح یہی ہے کہ یہ بھی موقوف ہے ۔
اسے ابوداؤد اور دارقطنی نے روایت کیا ہے ۔ راجح یہی ہے کہ یہ بھی موقوف ہے ۔
حدیث نمبر: 491
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده عبد الله بن عمرو رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « من ولي يتيما له مال فليتجر له ولا يتركه حتى تأكله الصدقة». رواه الترمذي والدارقطني وإسناده ضعيف وله شاهد مرسل عند الشافعي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص کسی یتیم کا متولی بنے اسے چاہیئے کہ مال یتیم کو تجارت میں لگائے ، اسے یوں ہی بیکار پڑا نہ رہنے دے کہ زکوٰۃ ہی اسے کھا جائے ۔ “
اسے ترمذی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ، البتہ امام شافعی کے پاس ایک مرسل روایت اس کی شاہد ہے ۔
اسے ترمذی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند ضعیف ہے ، البتہ امام شافعی کے پاس ایک مرسل روایت اس کی شاہد ہے ۔
حدیث نمبر: 492
وعن عبد الله بن أبي أوفى رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا أتاه قوم بصدقتهم قال : « اللهم صل عليهم ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب لوگ زکوٰۃ لے کر حاضر ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے یوں دعا فرماتے «اللهم صل عليهم» ” یا اللہ ! ان پر رحم و کرم فرما ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 493
وعن علي رضي الله عنه : أن العباس رضي الله عنه سأل النبي صلى الله عليه وآله وسلم في تعجيل صدقته قبل أن تحل فرخص له في ذلك . رواه الترمذي والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آیا زکوٰۃ اپنے مقررہ وقت سے پہلے ادا ہو سکتی ہے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس کی اجازت دے دی ۔ ( ترمذی ، مستدرک حاکم )
حدیث نمبر: 494
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « ليس فيما دون خمس أواق من الورق صدقة وليس فيما دون خمس ذود من الإبل صدقة وليس فيما دون خمسة أوسق من الثمر صدقة ». رواه مسلم. وله من حديث أبي سعيد: « ليس فيما دون خمسة أوساق من تمر ولا حب صدقة ». وأصل حديث أبي سعيد متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانچ اوقیہ سے کم چاندی پر کوئی زکوٰۃ نہیں ۔ اسی طرح اونٹوں کی تعداد پانچ سے کم ہو تو ان پر بھی زکوٰۃ نہیں اور پانچ وسق سے کم کھجوروں پر بھی زکوٰۃ نہیں ۔ “ ( مسلم )
اور مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچ وسق سے کم کھجوروں یا غلہ پر زکوٰۃ نہیں ۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی اصل بخاری و مسلم میں ہے ۔
اور مسلم میں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانچ وسق سے کم کھجوروں یا غلہ پر زکوٰۃ نہیں ۔ ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت کی اصل بخاری و مسلم میں ہے ۔
حدیث نمبر: 495
وعن سالم بن عبد الله عن أبيه رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر وفيما سقي بالنضح نصف العشر ».رواه البخاري ولأبي داود : « إذا كان بعلا العشر وفيما سقي بالسواني أو النضح نصف العشر».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سالم بن عبداللہ رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ہے کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو زمین آسمانی بارش اور چشموں سے سیراب ہوتی ہو یا رطوبت والی ہو اس میں دسواں حصہ زکوٰۃ ہے ( عشر ہے ) اور جو زمین پانی کھینچ کر سیراب کی جاتی ہو ۔ اس میں بیسواں حصہ ( نصف عشر ) ہے ۔ “ ( بخاری )
ابوداؤد کی روایت میں «بعلا العشر» کا لفظ ہے «العشر» کی جگہ اور اگر جانوروں کے ذریعہ یا ڈول سے پانی نکال کر سیراب کی جاتی ہو اس میں بیسواں حصہ ( نصف عشر ) ہے ۔
ابوداؤد کی روایت میں «بعلا العشر» کا لفظ ہے «العشر» کی جگہ اور اگر جانوروں کے ذریعہ یا ڈول سے پانی نکال کر سیراب کی جاتی ہو اس میں بیسواں حصہ ( نصف عشر ) ہے ۔
حدیث نمبر: 496
وعن أبي موسى الأشعري ومعاذ رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لهما : « لا تأخذوا الصدقة إلا من هذه الأصناف الأربعة : الشعير والحنطة والزبيب والتمر » .رواه الطبراني والحاكم. وللدارقطني عن معاذ رضي الله عنه قال : " فأما القثاء والبطيخ والرمان والقصب فعفو عفا عنه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ". وإسناده ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوموسٰی اشعری رضی اللہ عنہ اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ دونوں سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ” جو ، گندم ، منقی ( کشمش ) اور کھجور ان چار اصناف کے علاوہ کسی غلہ پر زکوٰۃ وصول نہ کی جائے ۔ “
اسے طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دارقطنی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ کھیرا ، کھکھڑی ، تربوز ، انار اور گنے میں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ معاف فرمائی ہے ۔ مگر اس روایت کی سند میں ضعف ہے ۔
اسے طبرانی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دارقطنی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ کھیرا ، کھکھڑی ، تربوز ، انار اور گنے میں البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوٰۃ معاف فرمائی ہے ۔ مگر اس روایت کی سند میں ضعف ہے ۔
حدیث نمبر: 497
وعن سهل بن أبي حثمة رضي الله عنه قال : أمرنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع » رواه الخمسه إلا ابن ماجة وصححه ابن حبان والحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ” جب تم غلہ کا تخمینہ اور اندازہ لگاؤ تو ایک تہائی چھوڑ دیا کرو اگر تہائی نہیں چھوڑ سکتے تو چوتھائی چھوڑ دیا کرو ۔ “
ابن ماجہ کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
ابن ماجہ کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 498
وعن عتاب بن أسيد رضي الله عنه قال : أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يخرص العنب كما يخرص النخل وتؤخذ زكاته زبيبا. رواه الخمسه ، وفيه انقطاع.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ ” ہم انگوروں کا اندازہ بھی اس طرح لگائیں جس طرح کھجوروں کا اندازہ لگایا جاتا ہے اور اس کی زکوٰۃ میں کشمش وصول کی جائے ۔ “ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے مگر اس میں انقطاع ہے ۔
حدیث نمبر: 499
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ومعها ابنة لها وفي يد ابنتها مسكتان من ذهب فقال لها : « أتعطين زكاة هذه ؟ » قالت : لا ، قال : « أيسرك أن يسورك الله بهما يوم القيامة سوارين من نار ؟ » فألقتهما. رواه الثلاثة وإسناده قوي وصححه الحاكم من حديث عائشة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ۔ اس کے ہمراہ اس کی بیٹی بھی تھی ۔ جس کے ہاتھ میں سونے کے دو کنگن تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا ” کیا تو اس کی زکوٰۃ دیتی ہے ؟ “ اس نے عرض کیا نہیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کیا تجھے پسند ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان کے بدلے تجھے آگ کے دو کنگن پہنائے ؟ “ یہ سن کر اس خاتون نے دونوں کنگن پھینک دیئے ۔
اسے تینوں نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند قوی ہے ۔ حاکم نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے ۔
اسے تینوں نے روایت کیا ہے ۔ اس کی سند قوی ہے ۔ حاکم نے اسے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا اور اسے صحیح کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 500
وعن أم سلمة رضي الله عنها أنها كانت تلبس أوضاحا من ذهب فقالت : يا رسول الله أكنز هو ؟ قال : « إذا أديت زكاته فليس بكنز ». رواه أبو داود والدارقطني وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` انہوں نے سونے کا زیور پہن رکھا تھا ۔ انہوں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ کنز ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تو نے اس کی زکوٰۃ ادا کر دی تو پھر یہ کنز نہیں ۔ “
اسے ابوداؤد اور دارقطنی دونوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے ابوداؤد اور دارقطنی دونوں نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 501
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنهما قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعده للبيع . رواه أبو داود وإسناده لين.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں سامان تجارت سے زکوٰۃ نکالنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
اسے ابوداؤد نے کمزور سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 502
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « وفي الركاز الخمس ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” معدنیات میں خمس یعنی پانچواں حصہ ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 503
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال في كنز وجده رجل في خربة : « إن وجدته في قرية مسكونة فعرفه وإن وجدته في قرية غير مسكونة ففيه وفي الركاز الخمس» أخرجه ابن ماجه بإسناد حسن.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خزانے کے بارے میں جو کسی آدمی کو ویرانے سے حاصل ہوا ہو ( ملا ہو ) فرمایا ” اگر تو نے یہ خزانہ کسی آباد جگہ سے پایا ہے تو اس کی تحقیق کیلئے اعلان کرو اور اگر تو نے کسی غیر آباد جگہ سے پایا ہے تو اس میں اور معدنیات میں ( پانچواں حصہ ) ہے ۔ “ اسے ابن ماجہ نے حسن سند سے نکالا ہے ۔
حدیث نمبر: 504
وعن بلال بن الحارث رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أخذ من المعادن القبلية الصدقة. رواه أبو داود.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا بلال بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبل ( جگہ کا نام ) میں واقع کانوں سے زکوٰۃ وصول کی ۔ ( ابوداؤد )