حدیث نمبر: 425
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أكثروا ذكر هاذم اللذات : الموت ». رواه الترمذي والنسائي وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” لذتوں کو توڑ دینے ، کاٹ دینے والی کا ذکر کثرت سے کیا کرو ( یعنی موت کا ) “ اسے ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 426
وعن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا يتمنين أحدكم الموت لضر نزل به فإن كان لا بد متمنيا فليقل : اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کسی کو اس مصیبت و تکلیف کی وجہ سے جو اس پر نازل ہوئی ہو موت کی تمنا و خواہش ہرگز نہیں کرنی چاہئیے اور اگر اس کی تمنا ضروری ہو تو پھر اس طرح کہنا چاہیئے «اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي» اے اللہ ! جب تک جینا میرے لئے بہتر ہو اس وقت تک مجھے زندگی عطا فرما اور جب موت میرے لئے بہتر ہو تو مجھے وفات دیدے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 427
وعن بريدة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « المؤمن يموت بعرق االجبين». رواه الثلاثة وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مومن کی موت کے وقت اس کی پیشانی پر پسینہ رونما ہو جاتا ہے ۔ “ اس روایت کو تینوں یعنی ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 428
وعن أبي سعيد وأبي هريرة رضي الله عنهما قالا : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لقنوا موتاكم لا إله إلا الله ». رواه مسلم والأربعة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی کہ` رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا ” قریب المرگ آدمی کو «لا إله إلا الله» کی تلقین کرو ۔ “ اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 429
وعن معقل بن يسار رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : «اقرءوا على موتاكم يس ». رواه أبو داود والنسائي وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنے مرنے والوں کے قریب سورۃ «يس» پڑھا کرو ۔ “ اسے ابوداؤد ، نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 430
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت : دخل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على أبي سلمة وقد شق بصره فأغمضه ثم قال : « إن الروح إذا قبض تبعه البصر» فضج ناس من أهله فقال :« لا تدعوا على أنفسكم إلا بخير فإن الملائكة يؤمنون على ما تقولون» ثم قال : «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين وافسح له في قبره ونور له فيه واخلفه في عقبه ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت تشریف لائے اس وقت ان کی آنکھ کھلی ہوئی تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بند کر دیا اور پھر فرمایا کہ ” جب روح بدن سے نکل جاتی ہے تو آنکھ اس کا پیچھا کرتی ہے ۔ “ اتنے میں گھر کے لوگ آہ و بکا کرنے لگے ، چیخنے لگے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اپنے لیے اچھی اور بہتر دعا کرنا کیونکہ جو کچھ تم کہتے ہو اس پر فرشتے آمین کہتے ہیں ۔ “ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی «اللهم اغفر لأبي سلمة وارفع درجته في المهديين وافسح له في قبره ونور له فيه واخلفه في عقبه» ” الٰہی ! ابوسلمہ کی مغفرت فرما دے ۔ ہدایت یافتہ لوگوں میں اس کا درجہ و مرتبہ بلند فرما اور اس کی قبر کشادہ و وسیع فرما دے اور اسے منور فرما دے اور اس کے پیچھے رہنے والوں میں نائب و قائم مقام ہو جا ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 431
وعن عائشة رضي الله عنها : أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حين توفي سجي ببرد حبرة. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دھاری دار چادر سے ڈھانپ دیا گیا ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 432
وعنها رضي الله عنها أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قبل النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعد موته. رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی پیشانی ) کا بوسہ لیا تھا ۔ ( بخاری )
حدیث نمبر: 433
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال :« نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه ». رواه أحمد والترمذي وحسنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مومن کی روح قرض کے ساتھ اس وقت تک معلق ( لٹکی ) رہتی ہے جب تک اسے ادا نہیں کر دیا جاتا ۔ “ احمد اور ترمذی نے اسے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 434
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال في الذي سقط عن راحلته فمات : « اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبين » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کے متعلق جو اپنی سواری سے گر کر جاں بحق ہو گیا فرمایا کہ ” اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اور اسی کے دو کپڑوں میں کفن دے دو ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 435
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : لما أرادوا غسل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قالوا : والله ما ندري نجرد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من ثيابه كما نجرد موتانا أم نغسله وعليه ثيابه ؟. الحديث. رواه أحمد وأبو داود
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو غسل دینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا اللہ کی قسم ! ہمیں علم نہیں کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے اتاریں جس طرح ہم اپنے مرنے والوں کے کپڑے اتارتے ہیں یا نہ اتاریں ؟ پھر ساری حدیث بیان کی ۔ ( احمد اور ابوداؤد )
حدیث نمبر: 436
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت : دخل علينا النبي صلى الله عليه وآله وسلم ونحن نغسل ابنته فقال : « اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الآخرة كافورا أو شيئا من كافور» فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوه فقال: « أشعرنها إياه ». متفق عليه . وفي رواية: « ابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها ». وفي لفظ للبخاري: فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس اس وقت تشریف لائے جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے تین یا پانچ مرتبہ ، یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو ۔ اگر ضرورت محسوس کرو ، غسل پانی اور بیری کے پتوں سے دو ، آخر میں کافور یا فرمایا کچھ کافور ڈالو “ جب ہم فارغ ہوئیں تو ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع بھجوا دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا تہ بند اتار کر ہماری طرف پھینک دیا اور فرمایا ” اسے جسم کے ساتھ لگا دو ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور ایک روایت میں ہے کہ غسل دائیں طرف سے اور وضو کے اعضاء سے شروع کرنا ۔ بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ہم نے ان کے سر کے بالوں کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا اور ان کو پشت پر ڈال دیا ۔
حدیث نمبر: 437
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كفن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في ثلاثة أثواب بيض سحولية من كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سحولیہ کے بنے ہوئے سوتی سفید رنگ کے تین کپڑوں میں کفن دیا گیا تھا ۔ جس میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 438
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : لما توفي عبد الله بن أبي جاء ابنه إلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فقال : أعطني قميصك أكفنه فيه ، فأعطاه صلى الله عليه وآله وسلم قميصه.متفق عليه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتایا کہ` عبداللہ بن ابی جب فوت ہوا تو اس کا بیٹا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیص عنایت فرما دیں کہ میں اس میں اسے کفن دے دوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص اتار کر عنایت فرما دی ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 439
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم». رواه الخمسة إلا النسائي وصححه الترمذي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” سفید لباس زیب تن کیا کرو یہ تمہارے ملبوسات میں بہترین اور عمدہ لباس ہے اور اپنے مرنے والوں کو بھی اس میں کفن دیا کرو ۔ “
نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
نسائی کے علاوہ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 440
وعن جابر رضي الله عنه قال قال النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے جب کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دینا چاہیئے ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 441
وعنه رضي الله عنه قال : كان النبي صلى الله عليه وآله وسلم يجمع بين الرجلين من قتلى أحد في ثوب واحد ثم يقول : « أيهم أكثر أخذا للقرآن ؟ » فيقدمه في اللحد ولم يغسلوا ولم يصل عليهم. رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´اور انہی ( سیدنا جابر رضی اللہ عنہ ) سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شہداء احد کے دو دو آدمیوں کو ایک لباس میں جمع کرتے تھے پھر فرمایا ” ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد تھا ۔ جسے زیادہ یاد ہوتا ، اسے لحد میں پہلے اتارتے ۔ نہ تو ان شہداء کو غسل دیا گیا اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھی گئی ۔ “ ( بخاری )
حدیث نمبر: 442
وعن علي رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا». رواه أبو داود.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ” ( بہت ) قیمتی کفن نہ دیا کرو ۔ وہ تو بہت جلد بوسیدہ ہو جاتا ہے ۔ “ ( ابوداؤد )
حدیث نمبر: 443
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال لها : «لومت قبلي لغسلتك » الحديث. رواه أحمد وابن ماجه وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ ” اگر تو مجھ سے پہلے فوت ہو جائے تو میں تمہیں غسل دوں گا ۔ “
اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 444
وعن أسماء بنت عميس رضي الله عنها : أن فاطمة رضي الله عنها أوصت أن يغسلها علي. رواه الدارقطني.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ وصیت کی تھی کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود ان کو غسل دیں ۔ ( سنن دارقطنی )
حدیث نمبر: 445
وعن بريدة رضي الله عنه في قصة الغامدية التي أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم برجمها في الزنا قال : ثم أمر بها فصلي عليها ودفنت. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے` غامدیہ کے قصہ میں مروی ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارتکاب زنا کی پاداش میں رجم و سنگساری کا حکم دیا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کا حکم دیا پھر خود اس کی جنازہ پڑھی اور اسے دفن کیا گیا ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 446
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنهما قال : أتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم برجل قتل نفسه بمشاقص فلم يصل عليه. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے تیر سے خودکشی کی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 447
وعن أبي هريرة رضي الله عنه في قصة المرأة التي كانت تقم المسجد قال فسأل عنها النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقالوا : ماتت فقال : « أفلا كنتم آذنتموني ؟ » فكأنهم صغروا أمرها ، فقال : « دلوني على قبرها » فدلوه ، فصلى عليها. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے` اس عورت کے بارے میں جو مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی ، روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے دریافت فرمایا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جواب دیا کہ وہ فوت ہو چکی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم نے مجھے اطلاع کیوں دی ؟ “ گویا انہوں نے اس کے معاملہ وفات کو معمولی خیال کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے اس کی قبر کا راستہ بتاؤ ۔ “ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی قبر کا راستہ بتا دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں جا کر قبر پر نماز جنازہ پڑھی ۔ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” یہ قبریں اہل قبور کے لئے اندھیروں سے بھری ہوئی ہیں اور میری نماز سے ان کی قبروں میں روشنی ہو جاتی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 448
وعن حذيفة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان ينهى عن النعي. رواه أحمد والترمذي وحسنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم موت کے لئے کھلے عام منادی سے منع فرمایا کرتے تھے ۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
اسے احمد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 449
وعن أبي هريرة رضي الله عنه : أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نعى النجاشي في اليوم الذي مات فيه وخرج بهم إلى المصلى فصف بهم وكبر عليه أربعا. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی خبر وفات اسی روز دی جس روز وہ فوت ہوا تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو لے کر جنازہ گاہ کی طرف تشریف لے گئے ۔ صف بندی کروائی اور اس پرچار تکبیریں کہیں ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 450
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « ما من رجل مسلم يموت فيقوم على جنازته أربعون رجلا لا يشركون بالله شيئا لا شفعهم الله فيه ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ” کوئی مسلمان نہیں مرتا کہ اس کے جنازے میں ایسے چالیس آدمی شریک ہوں جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ اس مرنے والے کے حق میں ان کی شفاعت قبول فرما لیتا ہے ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 451
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنهما قال : صليت وراء النبي صلى الله عليه وآله وسلم على امرأة ماتت في نفاسها فقام وسطها. متفق عليه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ایک ایسی عورت کی نماز جنازہ پڑھی جو حالت نفاس میں فوت ہوئی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے درمیان میں کھڑے ہوئے تھے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 452
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : والله لقد صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على ابني بيضاء في المسجد. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں کی نماز جنازہ مسجد میں ادا فرمائی ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 453
وعن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال : كان زيد بن أرقم يكبر على جنائزنا أربعا وإنه كبر على جنازة خمسا فسألته فقال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكبرها.رواه مسلم والأربعة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی لیلٰی سے روایت ہے کہ` زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہتے تھے مگر ( خلاف معمول ) ایک مرتبہ انہوں نے پانچ تکبیریں کہیں تو میں نے ان سے دریافت کیا انہوں نے جواب دیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی پانچ تکبیریں کہتے تھے ۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 454
وعن علي رضي الله عنه أنه كبر على سهل بن حنيف ستا وقال : إنه بدري . رواه سعيد بن منصور وأصله في البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` انہوں نے سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ میں چھ تکبیریں کہیں اور فرمایا کہ وہ بدری تھے ۔
اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے اور اس اصل بخاری میں ہے ۔
اسے سعید بن منصور نے روایت کیا ہے اور اس اصل بخاری میں ہے ۔
حدیث نمبر: 455
وعن جابر رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكبر على جنائزنا أربعا ويقرأ بفاتحة الكتاب في التكبيرة الأولى.رواه الشافعي بإسناد ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے جنازوں پرچار تکبیریں کہا کرتے تھے اور پہلی تکبیر میں سورۃ «فاتحه» ( بھی ) پڑھتے تھے ۔
اسے شافعی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے ۔
اسے شافعی نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 456
وعن طلحة بن عبد الله بن عوف قال : صليت خلف ابن عباس رضي الله عنهما على جنازة فقرأ بفاتحة الكتاب قال : لتعلموا أنها سنة. رواه البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا طلحہ بن عبداللہ بن عوف رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ` میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی ۔ انہوں نے اس میں سورۃ «فاتحه» پڑھی اور فرمایا ( میں نے اس لئے سورۃ «فاتحه» پڑھی ہے ) تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ یہ سنت ہے ۔ ( بخاری )
حدیث نمبر: 457
وعن عوف بن مالك رضي الله عنه قال : صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم على جنازة فحفظت من دعائه « اللهم اغفر له ، وارحمه ، وعافه ، واعف عنه ، وأكرم نزله ، ووسع مدخله ، واغسله بالماء ، والثلج ، والبرد ، ونقه من الخطايا ، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، وأبدله دارا خيرا من داره ، وأهلا خيرا من أهله ، وأدخله الجنة ، وقه فتنة القبر ، وعذاب النار ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازہ پر نماز پڑھائی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں سے اتنا حصہ یاد کر لیا «اللهم اغفر له ، وارحمه ، وعافه ، واعف عنه ، وأكرم نزله ، ووسع مدخله ، واغسله بالماء ، والثلج ، والبرد ، ونقه من الخطايا ، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، وأبدله دارا خيرا من داره ، وأهلا خيرا من أهله ، وأدخله الجنة ، وقه فتنة القبر ، وعذاب النار» ” اے اللہ ! اس کی مغفرت فرما دے ، اس پر رحم فرما ، اسے عافیت و آرام سے رکھ ، اس سے درگزر فرما ، اس کی مہمان نوازی اچھی فرما ، اس کی قبر کشادہ و فراخ کر دے ، اسے پانی ، برف اور ژالوں ( اولوں ) سے دھو دے ( بالکل صاف کر دے ) اسے گناہوں سے ایسا صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اور اسے دنیاوی گھر سے بہتر اور عمدہ گھر اور اہل و عیال سے بہتر اہل و عیال عطا فرما ، اسے جنت میں داخل فرما ، اسے قبر کے فتنہ و آزمائش اور عذاب دوزخ سے محفوظ رکھ ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 458
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : فكان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا صلى على جنازة يقول :« اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده». رواه مسلم والأربعة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کی نماز جنازہ پڑھتے تو یہ دعا مانگتے «اللهم اغفر لحينا وميتنا وشاهدنا وغائبنا وصغيرنا وكبيرنا وذكرنا وأنثانا اللهم من أحييته منا فأحيه على الإسلام ومن توفيته منا فتوفه على الإيمان اللهم لا تحرمنا أجره ولا تضلنا بعده» ” اے اللہ ! ہمارے زندوں اور مردوں ، ہمارے حاضر و غائب ، ہمارے چھوٹوں اور بڑوں ، ہمارے مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما دے ! الٰہی ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھ اور جسے تو موت دے اسے ایمان کی موت سے سرفراز فرما ! الٰہی ! ہمیں اس کے اجر و ثواب سے محروم نہ رکھ اور نہ ہمیں اس کے بعد گمراہ ہونے دے ۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
اسے مسلم اور چاروں یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 459
وعنه رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا صليتم على الميت فأخلصوا له الدعاء». رواه أبو داود وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم کسی میت کی نماز جنازہ پڑھو تو خوب خلوص دل سے اس کے لئے دعا کرو ۔ “
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 460
وعن أبي هريرة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: « أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم ». متفق عليه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جنازہ لے جانے میں جلدی کیا کرو ۔ اس لئے کہ اگر مرنے والا صالح اور نیک آدمی تھا تو اس کے لئے بہتر ہو گا کہ اسے بہتر جگہ کی طرف جلدی لے جاؤ اور اگر دوسرا ہے ( برا آدمی ہے ) تو اپنی گردن سے اتار کر رکھ دو ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 461
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من شهد الجنازة حتى يصلى عليها فله قيراط ومن شهدها حتى تدفن فله قيراطان » قيل : وما القيراطان ؟ قال : « مثل الجبلين العظيمين » متفق عليه ولمسلم: « حتى توضع في اللحد» وللبخاري: « من تبع جنازة مسلم إيمانا واحتسابا وكان معها حتى يصلى عليها ويفرغ من دفنها فإنه يرجع بقيراطين كل قيراط مثل جبل أحد».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جو شخص جنازہ کے ساتھ جائے یہاں تک کہ اس کی نماز پڑھی جائے اسے ایک قیراط کے برابر ثواب ملے گا اور جو شخص دفن ہونے کے وقت تک حاضر رہے اسے دو قیراط کے برابر اجر ملے گا ۔ “ دریافت کیا گیا کہ دو قیراط سے کیا مراد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دو قیراط دو بڑے پہاڑوں کے برابر ۔ “ ( بخاری ومسلم )
اور مسلم کی روایت میں ہے ” میت کو قبر میں اتارے جانے تک حاضر رہے ۔ “ اور بخاری کی روایت میں ہے ” جس نے کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے شرکت کی اور نماز جنازہ کے اختتام تک اس کے ساتھ بھی رہا اور تدفین سے فراغت کے بعد واپس لوٹا تو وہ دو قیراط لے کر واپس لوٹا ۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔ “
اور مسلم کی روایت میں ہے ” میت کو قبر میں اتارے جانے تک حاضر رہے ۔ “ اور بخاری کی روایت میں ہے ” جس نے کسی مسلمان کے جنازے میں ایمان اور حصول ثواب کی نیت سے شرکت کی اور نماز جنازہ کے اختتام تک اس کے ساتھ بھی رہا اور تدفین سے فراغت کے بعد واپس لوٹا تو وہ دو قیراط لے کر واپس لوٹا ۔ ہر قیراط احد پہاڑ کے برابر ہے ۔ “
حدیث نمبر: 462
وعن سالم عن أبيه رضي الله عنهما أنه رأى النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأبا بكر وعمر وهم يمشون أمام الجنازة . رواه الخمسة ، وصححه ابن حبان ، وأعله النسائي وطائفة بالإرسال.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سالم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ` انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کو جنازے کے آگے چلتے دیکھا ہے ۔
اس کو پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی اور ایک گروہ نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا ہے ۔
اس کو پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے اور نسائی اور ایک گروہ نے اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول کہا ہے ۔
حدیث نمبر: 463
وعن أم عطية رضي الله عنها قالت : نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` ہمیں جنازوں میں شرکت سے منع کر دیا گیا مگر یہ ممانعت ہم پر لازمی قرار نہیں دی گئی ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 464
وعن أبي سعيد رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا رأيتم الجنازة فقوموا فمن تبعها فلا يجلس حتى توضع ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم کسی جنازے کو آتے دیکھو تو کھڑے ہو جاؤ ۔ نیز جو شخص جنازے کے ساتھ ہو وہ جنازے کے زمین پر رکھے جانے سے پہلے نہ بیٹھے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
…