حدیث نمبر: 195
عن عائشة رضي الله عنها قالت : أمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ببناء المساجد في الدور ، وأن تنظف وتطيب. رواه أحمد وأبو داود والترمذي ، وصحح إرساله.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں میں جائے نماز متعین کرنے اور ان کو صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا تھا ۔
اسے احمد ، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے احمد ، ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اس کے مرسل ہونے کو صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 196
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « قاتل الله اليهود اتخذوا قبور أنبيائهم مساجد ». متفق عليه ، وزاد مسلم : « والنصارى ».ولهما من حديث عائشة رضي الله عنها: « كانوا إذا مات فيهم الرجل الصالح بنوا على قبره مسجدا ». وفيه : « أولئك شرار الخلق ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اللہ تعالیٰ یہودیوں کو غارت و برباد کرے انہوں نے انبیاء کرام کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا ۔ ‘‘
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے ۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے ۔ ‘‘ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ’’ یہ بدترین مخلوق ہیں ۔ ‘‘
اسے بخاری و مسلم دونوں نے روایت کیا ہے اور مسلم نے نصاریٰ کے لفظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے ۔ بخاری و مسلم میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ’’ جب ان میں صالح آدمی فوت ہو جاتا ہے تو یہ اس کی قبر کو سجدہ گاہ بنا لیتے ۔ ‘‘ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ’’ یہ بدترین مخلوق ہیں ۔ ‘‘
حدیث نمبر: 197
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : بعث النبي صلى الله عليه وآله وسلم خيلا فجاءت برجل ، فربطوه بسارية من سواري المسجد . الحديث. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سا دستہ کسی طرف روانہ کیا ۔ یہ لوگ ایک ( مشرک ) مرد کو ( گرفتار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) لائے اور اس کو مسجد ( نبوی ) کے ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ باندھ دیا ( قید کر دیا ) ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 198
وعنه أن عمر رضي الله عنه مر بحسان ينشد في المسجد ، فلحظ إليه ، فقال : قد كنت أنشد فيه ، وفيه من هو خير منك. متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ہی یہ حدیث بھی مروی ہے کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا گزر سیدنا حسان رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا ، وہ مسجد میں اشعار پڑھ رہے تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف گھور کر دیکھا ( اس پر ) سیدنا حسان رضی اللہ عنہ نے کہا ( گھورتے کیوں ہیں ؟ ) میں تو اس وقت مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا جب مسجد میں وہ ذات گرامی موجود ہوتی تھی جو آپ سے افضل تھی ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ ( بخاری ومسلم )
حدیث نمبر: 199
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من سمع رجلا ينشد ضالة في المسجد فليقل : لا ردها الله عليك ، فإن المساجد لم تبن لهذا». رواه مسلم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ حدیث بھی مروی ہے کہ` جو کوئی یہ سنے کہ کوئی آدمی مسجد میں اپنی گمشدہ چیز تلاش کر رہا ہے تو سننے والا اسے یہ کہے کہ اللہ کرے وہ چیز تمہیں واپس نہ ملے ۔ مسجدیں اس مقصد کے لئے تو نہیں بنائی گئی ہیں ۔ ( مسلم )
حدیث نمبر: 200
وعنه رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : «إذا رأيتم من يبيع أو يبتاع في المسجد؛ فقولوا له : لا أربح الله تجارتك ». رواه النسائي والترمذي وحسنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے یہ روایت بھی مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جب تم کسی شخص کو مسجد میں خرید و فروخت کرتے دیکھو تو اسے کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کاروبار و تجارت میں نفع نہ دے ۔ ‘‘
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
اس حدیث کو ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 201
وعن حكيم بن حزام رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا تقام الحدود في المساجد ، ولا يستقاد فيها ». رواه أحمد وأبو داود بسند ضعيف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مساجد میں نہ تو حدود قائم کی جائیں اور نہ ہی ان میں قصاص ( خون کا بدلہ ) لیا جائے ۔ “ اس حدیث کو احمد اور ابوداؤد نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 202
وعن عائشة قالت : أصيب سعد يوم الخندق فضرب عليه رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم خيمة في المسجد ليعوده من قريب . متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` ’’ غزوہ خندق کے روز سیدنا سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے مسجد میں خیمہ لگوایا تھا ، تاکہ قریب سے ان کی تیمارداری ( بآسانی ) کر سکیں ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 203
وعنها قالت : رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسترني وأنا أنظر إلى الحبشة يلعبون في المسجد . . . الحديث . متفق عليه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ` ’’ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے لئے پردہ بنے ہوئے تھے اور میں حبشیوں کے کھیل کو دیکھ رہی تھی جو وہ مسجد میں کھیل رہے تھے ۔ “ یہ طویل حدیث کا جز ہے ۔ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 204
وعنها : أن وليدة سوداء كان لها خباء في المسجد فكانت تأتيني فتحدث عندي . . الحديث. متفق عليه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے مروی ہے کہ` ’’ ایک سیاہ رنگ لڑکی کا خیمہ مسجد میں تھا وہ میرے پاس باتیں کرنے کے لئے آیا کرتی تھی ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 205
وعن أنس رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «البصاق في المسجد خطيئة وكفارتها دفنها » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسجد میں تھوکنا گناہ ہے ۔ اس کا کفارہ تھوک کو دفن کرنا ہے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 206
وعنه رضي الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم :« لا تقوم الساعة حتى يتباهى الناس في المساجد» . أخرجه الخمسة إلا الترمذي وصححه ابن خزيمة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قیامت اس وقت تک قائم نہ ہو گی جب تک کہ لوگ مسجدوں ( کی تعمیر ) میں فخر نہ کرنے لگیں ۔ “
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے بجز ترمذی کے ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے پانچوں نے روایت کیا ہے بجز ترمذی کے ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 207
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ما أمرت بتشييد المساجد » . أخرجه أبو داود وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھے مساجد کی آرائش و زیبائش ( بناؤ سنوار ) کا حکم نہیں دیا گیا ۔ “
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے ابوداؤد نے روایت کیا ہے ۔ ابن حبان نے اس کو صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 208
وعن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : «عرضت علي أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد ». رواه أبو داود والترمذي واستغربه وصححه ابن خزيمة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مجھ پر میری امت کے ( اعمال کے ) ثواب پیش کیے گئے ، یہاں تک کہ اس تنکے کا ثواب بھی ان میں شامل تھا ، جسے آدمی مسجد سے نکال کر باہر پھینکتا ہے ۔ “
اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے غریب کہا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
اس حدیث کو ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے غریب کہا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 209
وعن أبي قتادة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا دخل أحدكم المسجد فلا يجلس حتى يصلي ركعتين » متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا قتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم میں سے کوئی جب ( بھی ) مسجد میں داخل ہو تو بیٹھنے سے پہلے دو رکعت ( نفل ) ادا کر لے ۔ “ ( بخاری ومسلم )