حدیث نمبر: 187
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أن يصلي الرجل مختصرا. متفق عليه . واللفظ لمسلم ، ومعناه أن يجعل يده على خاصرته. وفي البخاري عن عائشة رضي الله عنها :« أن ذلك فعل اليهود ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آدمی کو نماز میں اپنے دونوں کولہوں ( پہلووں ) پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ۔ ( بخاری و مسلم ) الفاظ حدیث مسلم کے ہیں اور بخاری میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ یہودیوں کی نماز کا طریقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 188
وعن أنس رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « إذا قدم العشاء فابدءوا به قبل أن تصلوا المغرب ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب شام کا کھانا پیش کیا گیا ہو تو مغرب کی نماز ادا کرنے سے پہلے کھانا کھا لو ۔ ‘‘ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 189
وعن أبي ذر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « إذا قام أحدكم في الصلاة فلا يمسح الحصى ، فإن الرحمة تواجهه». رواه الخمسة بإسناد صحيح ، وزاد أحمد :« واحدة أو دع ». وفي الصحيح عن معيقيب نحوه بغير تعليل.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جب تم میں سے کوئی شخص نماز ادا کر رہا ہو تو ( سجدہ گاہ ) سے سنگریزوں ( کنکریوں ) کو اپنے ہاتھ سے نہ ہٹائے ۔ کیونکہ ( اس وقت ) رحمت خداوندی نمازی کی طرف متوجہ ہوتی ہے ۔ “
اسے پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ مسند احمد میں اتنا اضافہ ہے کہ ( اگر کنکریاں ہٹانا ہی ہیں تو ) ’’ ایک مرتبہ ہٹا دو یا چھوڑ دو ۔ ‘‘ اور صحیح بخاری میں یہی روایت معیقیب سے مروی ہے اس میں سبب کا بیان نہیں ہے ۔
اسے پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ روایت کیا ہے ۔ مسند احمد میں اتنا اضافہ ہے کہ ( اگر کنکریاں ہٹانا ہی ہیں تو ) ’’ ایک مرتبہ ہٹا دو یا چھوڑ دو ۔ ‘‘ اور صحیح بخاری میں یہی روایت معیقیب سے مروی ہے اس میں سبب کا بیان نہیں ہے ۔
حدیث نمبر: 190
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سألت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن الالتفات في الصلاة ؟ فقال :«هو اختلاس يختلسه الشيطان من صلاة العبد ». رواه البخاري. وللترمذي وصححه : « إياك والالتفات في الصلاة ، فإنه هلكة ، فإن كان لا بد ففي التطوع ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آنکھوں کے گوشوں سے نماز کے دوران ادھر ادھر دیکھنے کے بارے میں دریافت کیا ۔ ارشاد فرمایا ’’ یہ تو شیطان کا جھپٹا ہے جس کے ذریعہ شیطان انسان کی نماز کو جھپٹ لیتا ہے ۔ “ ( بخاری ) ترمذی کی حدیث ، جسے انہوں نے صحیح قرار دیا ہے میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ نماز میں التفات ( ادھر ادھر نظر دوڑانے ) سے بچنے کی کوشش کرو یہ موجب ہلاکت ہے ۔ اگر شدید اور ناگزیر مجبوری لاحق ہو تو نوافل میں ایسا کیا جا سکتا ہے ۔ ‘‘
حدیث نمبر: 191
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا كان أحدكم في الصلاة فإنه يناجي ربه فلا يبصقن بين يديه ولا عن يمينه ، ولكن عن شماله تحت قدمه ». متفق عليه . وفي رواية : « أو تحت قدمه».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جب تم میں سے کوئی نماز میں ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے باتیں کر رہا ہوتا ہے ( لہذا ایسی حالت میں ) اپنے سامنے کی طرف اور دائیں جانب نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں جانب پاؤں کے نیچے ( تھوکے ) ۔ ‘‘ ( بخاری و مسلم ) اور ایک روایت میں ہے کہ بائیں طرف یا اپنے پاؤں کے نیچے ۔
حدیث نمبر: 192
وعنه قال : كان قرام لعائشة رضي الله عنها ، سترت به جانب بيتها ، فقال لها النبي صلى الله عليه وآله وسلم : « أميطي عنا قرامك هذا ، فإنه لا تزال تصاويره تعرض لي في صلاتي ». رواه البخاري. واتفقا على حديثها في قصة أنبجانية أبي جهم وفيه : « فإنها ألهتني عن صلاتي».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ` سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک زیبائشی چادر ( برائے پردہ ) تھی جو انہوں نے اپنے حجرے کے ایک طرف لٹکا رکھی تھی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ’’ زیبائشی چادر کو میرے سامنے سے ہٹا دو کیونکہ اس کی تصویریں میری نماز میں میرے سامنے آتی ہیں ( نماز میں خلل اندازی کا باعث بنتی ہیں ) ۔ ‘‘ بخاری اور مسلم دونوں ابوجہم کی چادر انبجانیہ کے قصہ پر متفق ہیں اس میں ہے کہ ’’ اس چادر نے مجھے میری نماز سے غافل کر دیا ۔ ‘‘
حدیث نمبر: 193
وعن جابر بن سمرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لينتهين أقوام يرفعون أبصارهم إلى السماء في الصلاة ، أو لا ترجع إليهم ». رواه مسلم. وله عن عائشة رضي الله عنها قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول : « لا صلاة بحضرة طعام ولا هو يدافعه الأخبثان ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ مسلمان قوم نماز میں اپنی نظریں آسمان کی جانب اٹھانے سے باز آ جائے ورنہ ایسا نہ ہو کہ پھر ان کی نظریں واپس ہی نہ آئیں ( یعنی نابینا ہو جائیں ) ۔ ‘‘ ( مسلم ) اور مسلم ہی میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ ’’ جب کھانا حاضر ہو اور قضائے حاجت پیش ہو تو نماز نہیں ہوتی ۔ ‘‘
حدیث نمبر: 194
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال : «التثاؤب من الشيطان ، فإذا تثاءب أحدكم فليكظم ما استطاع ». رواه مسلم والترمذي ، وزاد : « في الصلاة».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ جمائی کا آنا شیطانی حرکت ہے ۔ تم سے اگر کسی کو جمائی آ جائے تو حتیٰ الوسع اسے روکنے کی کوشش کرے ۔ ‘‘ ( مسلم و ترمذی ) ترمذی نے اپنی روایت میں ، نماز میں ، کا اضافہ نقل کیا ہے ۔