حدیث نمبر: 94
عن أبي سعيد الخدري رضي الله تعالى عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: « الماء من الماء» رواه مسلم ، وأصله في البخاري.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” پانی کا استعمال خروج پانی سے ہے ۔ “ ( یعنی جب تک منی کا خروج نہ ہو اس وقت تک غسل واجب نہیں ہوتا ۔ ) اسے مسلم نے روایت کیا ہے اور اصل روایت بخاری میں بھی ہے ۔
حدیث نمبر: 95
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا جلس بين شعبها الأربع ثم جهدها ، فقد وجب الغسل ». متفق عليه. وزاد مسلم : « وإن لم ينزل ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” جب تم میں سے کوئی عورت کی چار شاخوں کے درمیان میں بیٹھے پھر اپنی پوری کوشش کر لے تو اس پر غسل واجب ہو گیا ۔ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم نے اتنا اضافہ نقل کیا ہے کہ ” خواہ انزال نہ ہوا ہو ۔ “
حدیث نمبر: 96
وعن أم سلمة رضي الله عنها أن أم سليم- وهي امرأة أبي طلحة- قالت: يا رسول الله! إن الله لا يستحيي من الحق ، فهل على المرأة الغسل إذا احتلمت؟ قال : « نعم إذا رأت الماء » . الحديث متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ` ام سلیم رضی اللہ عنہا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ حق بیان کرنے سے حیاء نہیں کرتا تو بتائیں کیا عورت کو جب احتلام ہو جائے تو اس پر بھی غسل فرض ہے ؟ فرمایا ” ہاں ! جب وہ پانی دیکھے ۔ “ ( بخاری و مسلم )
حدیث نمبر: 97
وعن أنس رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : في المرأة ترى في منامها ما يرى الرجل ، قال : « تغتسل ». متفق عليه. وزاد مسلم : فقالت أم سلمة : وهل يكون هذا ؟ قال :« نعم ، فمن أين يكون الشبه ؟ ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا انس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے متعلق فرمایا جو خواب میں وہی کچھ دیکھے جو ایک نوجوان مرد دیکھتا ہے ( احتلام ) ” کہ وہ غسل کرے ۔ “ ( بخاری و مسلم ) اور مسلم نے اتنا اضافہ بھی کیا ہے کہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب دینے پر مزید دریافت کیا ، کیا ایسا ( عورت ) کے ساتھ بھی ہوتا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں ! اگر ایسا نہ ہوتا تو مشابہت کہاں سے ہوتی ۔ “
حدیث نمبر: 98
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يغتسل من أربع : من الجنابة ، ويوم الجمعة ، ومن الحجامة ، ومن غسل الميت . رواه أبو داود وصححه ابن خزيمة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چار چیزوں کی وجہ سے غسل فرمایا کرتے تھے ۔ جنابت ، جمعہ کے روز ، سینگی لگوانے کے بعد اور میت کو غسل دینے کی وجہ سے ۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 99
وعن أبي هريرة رضي الله عنه- في قصة ثمامة بن أثال عندما أسلم- وأمره النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يغتسل. رواه عبد الرزاق ، وأصله متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ثمامہ بن اثال رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے واقعہ کے متعلق مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غسل کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ۔ عبدالرزاق نے اسے روایت کیا ہے اور اس کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے ۔
حدیث نمبر: 100
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه : أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم » . أخرجه السبعة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جمعہ کے روز غسل کرنا ہر بالغ پر واجب ہے ۔ “
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے ۔
اس کو ساتوں یعنی بخاری ، مسلم ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ اور احمد نے روایت کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 101
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من توضأ يوم الجمعة فبها ونعمت ومن اغتسل فالغسل أفضل » . رواه الخمسة وحسنه الترمذي.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جمعہ کے روز جس نے وضو کیا اس نے اچھا اور بہتر کیا اور جس نے غسل کیا تو بہرحال افضل ہے اور بہترین ہے ۔ “
اس کو پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
اس کو پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 102
وعن علي رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقرئنا القران ما لم يكن جنبا . رواه أحمد والخمسة وهذا لفظ الترمذي وحسنه وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` ” نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت کے علاوہ ہر حالت میں ہمیں قرآن مجید پڑھا دیا کرتے تھے ۔ “
اسے پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ متن حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
اسے پانچوں یعنی احمد ، ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔ متن حدیث کے الفاظ ترمذی کے ہیں اور ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 103
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إذا أتى أحدكم أهله ثم أراد أن يعود فليتوضأ بينهما وضوءا » . رواه مسلم.زاد الحاكم : « فإنه أنشط للعود ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” جب تم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کے پاس جائے ( یعنی تعلق زن و شو قائم کرے ، ہمبستری کرے ) پھر دوبارہ لطف اندوز ہونے کا ارادہ ہو تو درمیان میں وضو کر لے ۔ “ ( مسلم )
اور حاکم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ( یہ وضو ) دوبارہ مباشرت کیلئے زیادہ باعث نشاط ہے یعنی فرحت بخش اور تازگی پیدا کرتا ہے اور سنن اربعہ یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے ۔ یہ روایت معلول ہے ۔
اور حاکم نے اتنا اضافہ کیا ہے کہ ( یہ وضو ) دوبارہ مباشرت کیلئے زیادہ باعث نشاط ہے یعنی فرحت بخش اور تازگی پیدا کرتا ہے اور سنن اربعہ یعنی ابوداؤد ، ترمذی ، نسائی اور ابن ماجہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حالت جنابت میں پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے ۔ یہ روایت معلول ہے ۔
حدیث نمبر: 104
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا اغتسل من الجنابة يبدأ فيغسل يديه ثم يفرغ بيمينه على شماله فيغسل فرجه ثم يتوضأ ثم يأخذ الماء فيدخل أصابعه في أصول الشعر ، ثم حفن على رأسه ثلاث حفنات ، ثم أفاض على سائر جسده ثم غسل رجليه . متفق عليه واللفظ لمسلم.ولهما من حديث ميمونة : ثم أفرغ على فرجه وغسله بشماله ، ثم ضرب بها الأرض.وفي رواية : فمسحها بالتراب. وفي آخره : ثم أتيته بالمنديل فرده ، وفيه : وجعل ينفض الماء بيده.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب غسل جنابت کرتے تو اس طرح آغاز کرتے ۔ پہلے ہاتھ دھوتے پھر سیدھے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالتے اور اپنا عضو مخصوص دھوتے ۔ پھر وضو کرتے ، پھر پانی لے کر اپنی انگلیوں کے ذریعہ سر کے بالوں کی تہہ ( جڑوں ) میں داخل کرتے ۔ پھر تین چلو پانی کے بھر کر یکے بعد دیگرے سر پر ڈالتے ۔ پھر باقی سارے وجود پر پانی بہاتے ( سب سے آخر میں ) پھر دونوں پاؤں دھوتے ۔ ( بخاری و مسلم ) متن حدیث کے الفاظ مسلم کے ہیں ۔
اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے ۔ ” پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور ( صاف کرتے ) “ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ” پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے ۔ “ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ” میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال ( تولیہ ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن ( پر جو پانی رہ گیا تھا ) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا ۔ “
اور بخاری و مسلم میں سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں اس طرح ہے ۔ ” پھر اپنے عضو مخصوص پر پانی ڈالتے اور اپنے بائیں ہاتھ سے اسے دھوتے اور ہاتھوں کو زمین پر مار کر مٹی سے ملتے اور ( صاف کرتے ) “ اور ایک دوسری روایت میں اس طرح ہے ” پھر دونوں ہاتھ مٹی سے مل کر اچھی طرح صاف کرتے ۔ “ اس روایت کے آخر میں ہے کہ ” میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رومال ( تولیہ ) پیش کیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس لوٹا دیا اور بدن ( پر جو پانی رہ گیا تھا ) اسے اپنے ہاتھ سے جھاڑنا شروع کیا ۔ “
حدیث نمبر: 105
وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت : قلت : يا رسول الله! إني امرأة أشد شعر رأسي ، أفأنقضه لغسل الجنابة ؟ وفي رواية : والحيضة ؟ قال : « لا إنما يكفيك أن تحثي على رأسك ثلاث حثيات ». رواه مسلم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ` میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اپنے سر کے بال ( یعنی مینڈھیوں کی شکل میں ) باندھ لیتی ہوں ۔ کیا غسل جنابت کے موقع پر ان کو کھولوں ؟ اور ایک روایت میں حیض سے فارغ ہو کر غسل کے وقت کے الفاظ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نہیں ( کھولنے کے ضرورت نہیں ) بس تیرے لئے یہی کافی ہے کہ تو اپنے سر پر تین چلو پانی بہا دیا کر ۔ “ ( مسلم )
حدیث نمبر: 106
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب » . رواه أبو داود . وصححه ابن خزيمة.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” میں حائضہ عورت اور حالت جنابت میں مبتلا مرد کیلئے مسجد میں داخلہ حلال نہیں کرتا ( یعنی ان دونوں کو مسجد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دیتا ) ۔ “ اس کو ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 107
وعنها رضي الله عنها قالت : كنت أغتسل أنا ورسول الله صلى الله عليه وآله وسلم من إناء واحد تختلف أيدينا فيه من الجنابة . متفق عليه ، وزاد ابن حبان : " وتلتقي ".
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے یہ روایت بھی ہے کہ` میں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں ایک ہی برتن سے غسل جنابت کر لیا کرتے تھے ۔ اس برتن میں ہمارے ہاتھ یکے بعد دیگرے داخل ہوتے تھے ۔ ( بخاری و مسلم )
اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے ۔
اور ابن حبان نے اتنا اضافہ مزید نقل کیا ہے کہ بسا اوقات دونوں کے ہاتھ ایک دوسرے سے چھو جاتے تھے ۔
حدیث نمبر: 108
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إن تحت كل شعرة جنابة فاغسلوا الشعر وانقوا البشر » . رواه أبو داود والترمذي وضعفاه . ولأحمد عن عائشة رضي الله عنها نحوه وفيه راو مجهول.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ” ہر بال کی تہہ ( نیچے ) میں جنابت کا اثر ہوتا ہے اس لئے بالوں کو ( اچھی طرح ) دھویا کرو اور جسم کو اچھی طرح ( مل کر ) صاف کیا کرو ۔ “
ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے ۔
ابوداؤد اور ترمذی دونوں نے اسے روایت کیا ہے اور ساتھ ہی ضعیف بھی قرار دیا ہے ۔ مسند احمد میں بھی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی طرح روایت ہے اور اس میں ایک راوی مجہول ہے ۔