حدیث نمبر: 994
وعن عائشة رضي الله عنها عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال : « لا يحل قتل مسلم إلا بإحدى ثلاث خصال : زان محصن فيرجم ورجل يقتل مسلما متعمدا فيقتل ورجل يخرج من الإسلام فيحارب الله ورسوله فيقتل أو يصلب أو ينفى من الأرض » رواه أبو داود والنسائي وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” کسی مسلمان آدمی کا قتل حلال نہیں بجز تین صورتوں میں سے کسی ایک کے ۔ شادی شدہ زانی ، پس اسے سنگسار کیا جائے اور وہ آدمی جو دیدہ دانستہ کسی مسلمان بھائی کو قتل کرے پس اسے قتل کیا جائے گا اور ایک وہ آدمی جو دائرہ اسلام سے خارج ہو جائے اور اللہ اور اس کے رسول سے ( لڑائی ) شروع کر دے ۔ پس اسے قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی یا اسے جلا وطن کیا جائے گا ۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الحدود، باب الحكم فيمن ارتد، حديث:4353، والنسائي، تحريم الدم، حديث:4021، والحاكم:4 /367.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4353 | سنن نسائي: 4022 | سنن نسائي: 4053 | سنن نسائي: 4747

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4022 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جن گناہوں اور جرائم کی وجہ سے کسی مسلمان کا خون حلال ہو جاتا ہے ان کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں سوائے اس شخص کے جس نے شادی کے بعد زنا کیا یا اسلام لانے کے بعد کفر کیا یا جان کے بدلے جان لینا ہو۔‏‏‏‏ اسے زہیر نے موقوفاً روایت کیا ہے (ان کی روایت آگے آ رہی ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4022]
اردو حاشہ: غلام اگر زنا کرے، اگرچہ وہ شادی شدہ بھی ہو، اسے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس پر نصف حد ہے۔ اور وہ ہے پچاس کوڑے، رجم نصف نہیں ہو سکتا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4022 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4053 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سولی دینے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں مگر تین صورتوں میں: ایک تو شادی شدہ زانی کو رجم کیا جائے گا، دوسرے وہ شخص جس نے کسی شخص کو جان بوجھ کر قتل کیا تو اسے قتل کیا جائے گا، تیسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہوئے اسلام سے مرتد ہو جائے، تو اسے سولی دی جائے گی، یا جلا وطن کر دیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب تحريم الدم/حدیث: 4053]
اردو حاشہ: (1) باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت بالکل واضح ہے۔
(2) معلوم ہوا ڈاکو، باغی اور مرتد کے سلسلے میں حاکم کو مندرجہ بالا سزاؤں میں سے کسی ایک کا اختیار ہے، یعنی وہ جرم کی مناسبت سے سزا کم و بیش کر سکتا ہے۔ و اللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4053 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 4747 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´کافر کے بدلے مسلمان کے قتل نہ کیے جانے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کا قتل جائز نہیں ہے مگر جب تین صورتوں میں سے کوئی ایک صورت ہو ۱؎: شادی شدہ ہو کر زنا کرے تو اسے رجم کیا جائے گا، کوئی شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر (ناحق) قتل کرے، کوئی اسلام سے نکل جائے اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف محاذ جنگ بناتا پھرے، تو اسے قتل کیا جائے گا، یا سولی پر چڑھایا جائے گا، یا پھر جلا وطن کیا جائے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب القسامة والقود والديات/حدیث: 4747]
اردو حاشہ: مصنف رحمہ اللہ کا استدلال ظاہر الفاظ سے ہے کہ ان تین جرائم کے علاوہ کسی مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں۔ اور ان میں دوسرا جرم کسی مسلمان کو قتل کرنے کا ہے نہ کہ کافر کو۔ اس استدلال کی تائید آئندہ احادیث سے بھی ہو رہی ہے جن میں صراحتاً فرمایا گیا ہے کہ کسی مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا۔ باقی رہا النفس بالنفس تو یہ عام نہیں کیونکہ حربی کافر کے بدلے کوئی شخص بھی مسلمان کو قتل کرنے کا قائل نہیں۔ جس طرح حربی کا فر مستثنیٰ ہے، اسی طرح ان احادیث کی بنا پر ذمی کافر بھی مستثنیٰ ہے۔ (مزید تفصیل کے لیے دیکھیے، فوائد و مسائل حدیث: 4738)
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 4747 سے ماخوذ ہے۔