حدیث نمبر: 987
عن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما أن امرأة قالت : يا رسول الله إن ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وإن أباه طلقني وأراد أن ينزعه مني ؟ فقال لها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « أنت أحق به ما لم تنكحي » رواه أحمد وأبو داود وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور عرض کیا ۔ اے اللہ کے رسول ! یہ جو میرا لخت جگر ہے میرا پیٹ اس کے لیے برتن تھا ۔ میری چھاتی ( پستان ) اس کے لیے مشکیزہ اور میری آغوش اس کے لیے ٹھکانہ تھی ۔ اس کے والد نے مجھے طلاق دی ہے اور اب وہ مجھ سے اس بچہ کو بھی چھین لینا چاہتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جب تک تو دوسرا نکاح نہیں کرتی اس وقت تک تو ہی اس کی زیادہ حقدار ہے ۔ “ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 987
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الطلاق، باب من أحق بالولد، حديث:2276، وأحمد:2 /182، والحاكم:2 /207وصححه، ووافقه الذهبي.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2276

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2276 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بچے کی پرورش کا زیادہ حقدار کون ہے؟`
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ میرا بیٹا ہے، میرا پیٹ اس کا گھر رہا، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تک تو (دوسرا) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2276]
فوائد ومسائل:
یہ صحیح دلیل ہے کہ ماں جب تک نکاح نہ کرے وہ باپ کی نسبت بچے کی زیادہ حقدار ہے اور بعد ازنکاح بھی اگر شوہر راضی ہو تو اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔
لیکن اگر وہ راضی نہ ہوتو باپ کو دیا جائے گا۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2276 سے ماخوذ ہے۔