حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 981
وعن جابر يرفعه في الحامل المتوفى عنها زوجها قال : " لا نفقة لها " أخرجه البيهقي ورجاله ثقات لكن قال : المحفوظ وقفه وثبت نفي النفقة في حديث فاطمة بنت قيس رضي الله عنها كما تقدم رواه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے` اس حاملہ کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اس کے لئے نفقہ نہیں ہے ۔ اس کو بیہقی نے نکالا ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس کا موقوف ہونا ہی محفوظ ہے ۔ نفقہ کی نفی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے جو پہلے گزر چکی ہے ۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´نفقات کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس حاملہ کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اس کے لئے نفقہ نہیں ہے۔ اس کو بیہقی نے نکالا۔ اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس کا موقوف ہونا ہی محفوظ ہے۔ نفقہ کی نفی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 981»
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اس حاملہ کے بارے میں جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اس کے لئے نفقہ نہیں ہے۔ اس کو بیہقی نے نکالا۔ اس کے راوی ثقہ ہیں لیکن امام بیہقی نے کہا ہے کہ اس کا موقوف ہونا ہی محفوظ ہے۔ نفقہ کی نفی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث سے ثابت ہے جو پہلے گزر چکی ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 981»
تخریج:
«أخرجه البيهقي:7 /431.* أبوالزبير مدلس وعنعن وفيه علة أخري، وحديث فاطمة بنت قيس: أخرجه مسلم، الطلاق، حديث:1480.»
تشریح: اس حدیث میں دلیل ہے کہ جس حاملہ خاتون کا شوہر فوت ہو گیا ہو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے‘ تو جو غیر حاملہ ہو‘ اس کے لیے بالاولیٰ نفقہ نہیں ہوگا کیونکہ شوہر کی میراث میں سے دیگر ورثاء کی طرح اسے بھی حصہ ملتا ہے۔
«أخرجه البيهقي:7 /431.* أبوالزبير مدلس وعنعن وفيه علة أخري، وحديث فاطمة بنت قيس: أخرجه مسلم، الطلاق، حديث:1480.»
تشریح: اس حدیث میں دلیل ہے کہ جس حاملہ خاتون کا شوہر فوت ہو گیا ہو اس کے لیے نفقہ نہیں ہے‘ تو جو غیر حاملہ ہو‘ اس کے لیے بالاولیٰ نفقہ نہیں ہوگا کیونکہ شوہر کی میراث میں سے دیگر ورثاء کی طرح اسے بھی حصہ ملتا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 981 سے ماخوذ ہے۔