حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 974
وعن زياد السهمي قال : " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن تسترضع الحمقى " أخرجه أبو داود وهو مرسل وليست لزياد صحبة.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا زیاد سہمی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق و کم عقل عورتوں کا دودھ پلانے سے منع فرمایا ہے ۔ اسے ابوداؤد نے نکالا ہے اور یہ مرسل ہے کیونکہ زیاد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´دودھ پلانے کا بیان`
سیدنا زیاد سہمی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق و کم عقل عورتوں کا دودھ پلانے سے منع فرمایا ہے۔ اسے ابوداؤد نے نکالا ہے اور یہ مرسل ہے کیونکہ زیاد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 974»
سیدنا زیاد سہمی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احمق و کم عقل عورتوں کا دودھ پلانے سے منع فرمایا ہے۔ اسے ابوداؤد نے نکالا ہے اور یہ مرسل ہے کیونکہ زیاد کو صحابی ہونے کا شرف حاصل نہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 974»
تخریج:
««إسناده ضعيف، ومرسل» أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:207، وزاد: "فإن العين يشبه" وفيه هشام بن إسماعيل المكي وهو مجهول.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«زیاد سہمی» تقریب التہذیب میں ہے کہ یہ تیسرے طبقے کا آدمی ہے اور مجہول ہے۔
مرسل حدیث بیان کرتا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔
صاحب اسد الغابہ (ابن اثیر) اور صاحب استیعاب (ابن عبدالبر) نے اس کا ذکر صحابہ میں نہیں کیا۔
««إسناده ضعيف، ومرسل» أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:207، وزاد: "فإن العين يشبه" وفيه هشام بن إسماعيل المكي وهو مجهول.»
تشریح:
راویٔ حدیث:
«زیاد سہمی» تقریب التہذیب میں ہے کہ یہ تیسرے طبقے کا آدمی ہے اور مجہول ہے۔
مرسل حدیث بیان کرتا ہے۔
اور کہا گیا ہے کہ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کا آزاد کردہ غلام ہے۔
صاحب اسد الغابہ (ابن اثیر) اور صاحب استیعاب (ابن عبدالبر) نے اس کا ذکر صحابہ میں نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 974 سے ماخوذ ہے۔