حدیث نمبر: 956
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : " طلاق الأمة تطليقتان وعدتها حيضتان " رواه الدارقطني وأخرجه مرفوعا وضعفه وأخرجه أبو داود والترمذي وابن ماجه من حديث عائشة رضي الله عنها وصححه الحاكم وخالفوه فاتفقوا على ضعفه
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` لونڈی کی طلاق دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور انہوں نے اسے مرفوع بھی روایت کیا ہے مگر اسے ضعیف کہا ہے ۔ نیز اس روایت کی تخریج ابوداؤد ، ترمذی اور ابن ماجہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت سے کی ہے ۔ حاکم نے اسے صحیح کہا ہے مگر دوسرے محدثین نے ان کی مخالفت کی ہے ، وہ اس کے ضعیف ہونے پر متفق ہیں ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 956
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه الدارقطني:4 /38 وقال: "تفردبه عمر بن شبيب مرفوعًا وكان ضعيفًا" وعطية العوفي ضعيف مدلس وعنعن، وحديث عائشة: أخرجه أبوداود، الطلاق، حديث:2189، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1182 (مظاهر بن أسلم ضعيف).»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1182 | سنن ابي داود: 2189 | سنن ابن ماجه: 2080

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1182 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہونے کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو ہی طلاق ہے اور اس کی عدت دو حیض ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الطلاق واللعان/حدیث: 1182]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں مظاہرضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1182 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2080 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´لونڈی کی طلاق اور عدت کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کی دو طلاقیں ہیں، اور اس کی عدت دو حیض ہے۔‏‏‏‏ ابوعاصم کہتے ہیں کہ میں نے مظاہر بن اسلم سے اس حدیث کا ذکر کیا اور ان سے عرض کیا کہ یہ حدیث آپ مجھ سے ویسے ہی بیان کریں جیسے کہ آپ نے ابن جریج سے بیان کی ہے، تو انہوں نے مجھے «قاسم عن عائشہ» کے طریق سے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لونڈی کے لیے دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2080]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
امام مالک نے موطأ میں حضرت عثمان‘ حضرت زید بن ثابت اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓٓ کے فتوے ذکر کیے ہیں کہ غلام دو طلاقیں دے سکتا ہے اور لونڈی کی عدت دو حیض ہے‘ یعنی طلاق میں خاوند کی آزادی اور غلامی کا اعتبار ہو گا اور عدت میں عورت کا‘ یعنی آزاد عورت کی عدت تین حیض اور لونڈی کی عدت دو حیض ہوں گے۔ (موطأ إمام مالك‘ الطلاق‘باب ما جاء فی طلاق العبد: 2/ 118)
بہر حال مذکورہ دونوں احادیث ضعیف ہیں‘ تاہم آثار صحابہ سے یہی بات ثابت ہے کہ غلام اگر اپنی بیوی کوطلاق دے گا، چاہے وہ بیوی آزاد ہو یا لونڈی تو اس کے لیے دو طلاقیں ہی تین طلاقوں کے قائم مقام ہوں گی۔
اور مختلف اوقات میں دینے کے بعد وہ رجوع نہیں کر سکتا‘ تاآنکہ وہ مطلقہ عورت کسی دوسری جگہ باقاعدہ نکاح نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2080 سے ماخوذ ہے۔