حدیث نمبر: 953
وعن فاطمة بنت قيس قالت : قلت : يا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إن زوجي طلقني ثلاثا وأخاف أن يقتحم علي ؟ فأمرها فتحولت. رواه مسلم
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` میں نے عرض کیا ، اے اللہ کے رسول ! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی میرے پاس بے جا طور پر گھس نہ آئے اور ظلم کرے ۔ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت مرحمت فرما دی اور وہ وہاں سے منتقل ہو گئی ۔ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 953
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها ، حديث:1482.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا، اے اللہ کے رسول! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ کوئی میرے پاس بے جا طور پر گھس نہ آئے اور ظلم کرے۔ تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت مرحمت فرما دی اور وہ وہاں سے منتقل ہو گئی۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 953»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الطلاق، باب المطلقة البائن لا نفقة لها، حديث:1482.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی خطرے اور اندیشے کے پیش نظر عورت دوسرے قریبی رشتہ دار کے ہاں عدت گزارنے کے لیے منتقل ہو سکتی ہے‘ مثلاً: مکان غیر محفوظ ہو‘ مکان کے گر جانے کا خوف ہو‘ ہمسائیوں سے اذیت رسانی کا اندیشہ ہویا عورت تنہائی سے ڈرتی اور خوف کھاتی ہو وغیرہ۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 953 سے ماخوذ ہے۔