حدیث نمبر: 951
وعن جابر رضي الله عنه قال : طلقت خالتي فأرادت أن تجد نخلها فزجرها رجل أن تخرج فأتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : « بلى فجدي نخلك فإنك عسى أن تصدقي أو تفعلي معروفا » رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` میری خالہ کو طلاق دی گئی اور اس نے دوران عدت اپنی کھجور کا پھل اتارنے کے ارادہ سے باہر جانا چاہا تو ایک آدمی نے ان کو ڈانٹا ۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ہاں تم اپنے درختوں کا پھل توڑ سکتی ہو ۔ عین ممکن ہے کہ تم صدقہ کرو یا اس ذریعہ سے کوئی دوسرا عمل خیر تمہارے ہاتھ سے انجام پا جائے ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 951
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، الطلاق، باب جواز خروج المعتدة البائن...، حديث:1483.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میری خالہ کو طلاق دی گئی اور اس نے دوران عدت اپنی کھجور کا پھل اتارنے کے ارادہ سے باہر جانا چاہا تو ایک آدمی نے ان کو ڈانٹا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " ہاں تم اپنے درختوں کا پھل توڑ سکتی ہو۔ عین ممکن ہے کہ تم صدقہ کرو یا اس ذریعہ سے کوئی دوسرا عمل خیر تمہارے ہاتھ سے انجام پا جائے۔ " (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 951»
تخریج:
«أخرجه مسلم، الطلاق، باب جواز خروج المعتدة البائن...، حديث:1483.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو عورت ایام عدت میں ہو‘ وہ ضرورت کے لیے گھر سے باہر جائے اور کام کاج کرکے واپس گھر آجائے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 951 سے ماخوذ ہے۔