حدیث نمبر: 949
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت : جعلت على عيني صبرا بعد أن توفي أبو سلمة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إنه يشب الوجه فلا تجعليه إلا بالليل وانزعيه بالنهار ولا تمتشطي بالطيب ولا بالحناء فإنه خضاب». قلت : بأي شيء أمتشط ؟ قال : « بالسدر ». رواه أبو داود والنسائي وإسناده حسن.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` ابوسلمہ کی وفات کے بعد میں نے اپنی آنکھوں پر مصبر ( ایک قسم کی دوائی ) کا لیپ کیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مصبر چہرے کو صاف کرتا اور چمکاتا ہے ۔ اسے صرف رات کے اوقات میں استعمال کر اور دن کو منہ سے اتار دیا کر ۔ خوشبو اور مہندی والی کنگھی نہ کر ۔ مہندی تو ایک قسم کا خضاب ہے ۔ “ میں نے عرض کیا ۔ تو پھر کس چیز کے ساتھ کنگھی کروں ؟ فرمایا ” بیری کے پتوں کو پانی میں ڈال کر اس کے ساتھ ۔ “ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 949
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الطلاق باب فيما تجتنبه المعتدة في عدتها ، حديث:2305، والنسائي، الطلاق، حديث:3567.* أم حكيم لا يعرف حالها (تقريب)، والمغيرة بن الضحاك مستور.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 3567 | سنن ابي داود: 2305

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 3567 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´سوگ منانے والی عورت بیری کے پتے سے سر دھو کر کنگھی کر سکتی ہے۔`
ام حکیم بنت اسید اپنی ماں سے روایت کرتی ہیں کہ ان کے شوہر کا انتقال ہو گیا اور اس وقت ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، چنانچہ وہ آنکھوں کو جلا پہنچانے والا (یعنی اثمد کا) سرمہ لگایا کرتی تھیں تو انہوں نے (سوگ میں ہونے کے بعد) اپنی ایک لونڈی کو ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیج کر آنکھوں کو جلا اور ٹھنڈک پہنچانے والے سرمہ کے لگانے کے بارے میں پوچھا؟ انہوں نے کہا: نہیں لگا سکتی مگر یہ کہ کوئی ایسی مجبوری اور ضرورت پی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن نسائي/كتاب الطلاق/حدیث: 3567]
اردو حاشہ: یہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم یہ بات صحیح ہے کہ کوئی ایسی چیز جورنگ دے‘ مثلاً: سرمہ یا مہندی یا جو چہرے کو خوب صورت اور بارونق بنائے‘ مثلاً ایلوا یا جو چیز خوشبو دے‘ مثلاً: خوشبو در صابن‘ سینٹ وغیرہ‘ سوگ کے دوران میں عورت پر حرام ہیں‘ البتہ غسل‘ سادہ کنگھی اور بغیر خوشبو کے صابن استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ بیری کے پتے نہ رنگ دیتے ہیں نہ خوشبو‘ لہٰذا استعمال ہوسکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3567 سے ماخوذ ہے۔