حدیث نمبر: 946
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض. رواه ابن ماجه ورواته ثقات لكنه معلول.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` بریرہ کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے ۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کی ہے ۔ اس کے راوی ثقہ ہیں ، لیکن یہ روایت معلول ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 946
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «أخرجه ابن ماجه، الطلاق، باب خيار الأمة إذا أعتقت، حديث:2077، الثوري عنعن.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2077

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´عدت، سوگ اور استبراء رحم کا بیان`
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ بریرہ کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے۔ اسے ابن ماجہ نے روایت کی ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں، لیکن یہ روایت معلول ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 946»
تخریج:
«أخرجه ابن ماجه، الطلاق، باب خيار الأمة إذا أعتقت، حديث:2077، الثوري عنعن.»
تشریح: 1. مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے یہاں سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ سنن ابن ماجہ میں حسن قرار دیا ہے۔
دیکھیے: (سنن ابن ماجہ اردو طبع دارالسلام‘ حدیث: ۲۰۷۷) اور تحسین حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللّٰہ أعلم۔
2. لونڈی کو‘ آزاد ہونے سے‘ نکاح فسخ کرنے کا جو اختیار حاصل ہوتا ہے اگر وہ اس اختیار کو استعمال کر کے الگ ہو جائے تو طلاق کی طرح تین حیض عدت گزارنی پڑے گی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 946 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2077 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´آزاد ہو جانے کے بعد لونڈی کو اختیار ہے کہ وہ اپنے شوہر کے پاس رہے یا نہ رہے۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزاریں۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2077]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
لونڈی کو آزاد ہونے سے نکاح فسخ کرنے جو اختیار حاصل ہوتا ہے اگر وہ اس اختیار کو استعمال کر کے الگ ہوجائے تو طلاق کی طرح تین حیض عدت گزارنی پڑے گی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2077 سے ماخوذ ہے۔