حدیث نمبر: 936
عن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما قال : سأل فلان فقال : يا رسول الله أرأيت أن لو وجد أحدنا امرأته على فاحشة كيف يصنع ؟ إن تكلم تكلم بأمر عظيم وإن سكت سكت على مثل ذلك ؟ فلم يجبه فلما كان بعد ذلك أتاه فقال : إن الذي سألتك عنه قد ابتليت به فأنزل الله الآيات في سورة النور فتلاهن عليه ووعظه وذكره وأخبره أن عذاب الدنيا أهون من عذاب الآخرة قال : لا والذي بعثك بالحق ما كذبت عليها ثم دعاها فوعظها كذلك قالت : لا والذي بعثك بالحق إنه لكاذب فبدأ بالرجل فشهد أربع شهادات بالله ثم ثنى بالمرأة ثم فرق بينهما. رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` فلاں صاحب نے سوال کیا اے اللہ کے رسول ! بتائیے اگر ہم میں سے کوئی اپنی اہلیہ کو فاحشہ فعل میں مبتلا پائے تو وہ کیا کرے ؟ اگر وہ اسے دوسروں سے بیان کرتا ہے تو یہ نہایت قبیح فعل ہے اور اگر خاموش رہتا ہے تو یہ بھی نہایت قبیح فعل ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ پھر بعد میں جب وہ آیا تو اس نے کہا کہ تحقیق جو کچھ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہے ، میں خود ہی اس میں مبتلا ہوں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے سورۃ النور کی آیات نازل فرمائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ آیات اس کے سامنے پڑھیں اور اسے نصیحت فرمائی اور اللہ کی سزا یاد کرائی اور فرمایا کہ ” دنیا کا عذاب آخرت کے عذاب سے بہت ہلکا ہے ۔ وہ بولا نہیں قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ، میں نے اس پر جھوٹا الزام نہیں لگایا ہے ۔ “ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو بلوایا اور اسے بھی اسی طرح نصیحت فرمائی ۔ وہ بھی بولی نہیں اس خدا کی قسم ! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے یقیناً وہ مرد جھوٹا ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرد سے آغاز فرمایا ۔ اس مرد نے چار قسمیں کھائیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت سے بھی قسمیں لیں اور دونوں کے درمیان تفریق فرما دی ۔ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 936
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم، اللعان، حديث:1493.»