حدیث نمبر: 934
وعنه رضي الله عنه أن رجلا ظاهر من امرأته ثم وقع عليها فأتى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال : إني وقعت عليها قبل أن أكفر ؟ ؟ قال : « فلا تقربها حتى تفعل ما أمرك الله به ». رواه الأربعة وصححه الترمذي ورجح النسائي إرساله ورواه البزار من وجه آخر عن ابن عباس وزاد فيه : « كفر ولا تعد ».
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے اپنی بیوی سے ظہار کیا اور پھر اس سے جماع کر لیا ۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے کفارہ کی ادائیگی سے پہلے ہی اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اب اس وقت تک اس کے پاس نہ جا جب تک اللہ کا ارشاد نہ پورا کر لو ۔ “ اسے چاروں نے روایت کیا اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے اور نسائی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے اور بزار نے ایک اور سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ ہے کہ ” کفارہ ادا کر اور پھر اس کا اعادہ نہ کر ۔ “

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 934
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الطلاق، با ب في الظهار، حديث:2223، والترمذي، الطلاق واللعان، حديث:1199، والنسائي، الطلاق، حديث:3487، وابن ماجه، الطلاق، حديث:2065، والبزار.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 2065

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2065 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ظہار کرنے والا کفارہ دینے سے پہلے جماع کر لے تو اس کے حکم کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی سے ظہار کیا، اور کفارہ کی ادائیگی سے قبل ہی جماع کر لیا، چنانچہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا ؟ وہ بولا: اللہ کے رسول! میں نے اس کے پازیب کی سفیدی چاندنی رات میں دیکھی، میں بے اختیار ہو گیا، اور اس سے جماع کر بیٹھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے، اور اسے حکم دیا کہ کفارہ کی ادائیگی سے پہلے اس کے قریب نہ جائے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطلاق/حدیث: 2065]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  ظہار کرنے والے کو کفارہ ادا کرنے تک بیوی سے الگ رہنا چاہیے۔

(2)
  اگروہ غلطی سے کفارہ ادا کرنے سے پہلے مقاربت کرلے تو اسے دوکفارے ادا نہیں کرنے پڑیں گے۔
ایک ہی کفارہ ادا کرے۔
اور اللہ سے معافی مانگے اور استغفار کرے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2065 سے ماخوذ ہے۔