عن عمران بن حصين رضي الله عنه : أنه سئل عن الرجل يطلق ثم يراجع ولا يشهد ؟ فقال : " أشهد على طلاقها وعلى رجعتها ". رواه أبو داود هكذا موقوفا وسنده صحيح وأخرجه البيهقي بلفظ : أن عمران بن حصين سئل عمن راجع امرأته ولم يشهد فقال : " في غير سنة فليشهد الآن " وزاد الطبراني في رواية : "ويستغفر الله " .´سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` ان سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ جو طلاق دیتا ہے پھر رجوع کر لیتا ہے اور اس پر گواہ نہیں بناتا ۔ انہوں نے جواب دیا ” کہ عورت کو طلاق دیتے اور اس سے رجوع کرتے وقت گواہ مقرر کر ۔ “ اسے ابوداؤد نے اسی طرح موقوف روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے امام بیہقی نے اس روایت کو ان الفاظ سے ذکر کیا ہے ” عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی سے رجوع کرے مگر گواہ نہ بنائے ؟ “ تو انہوں نے فرمایا ” غیر مسنون ہے اور اسے چاہیئے کہ اب گواہ بنا لے ۔ “ طبرانی نے ایک روایت میں ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے کہ ” اسے اللہ سے معافی بھی مانگنی چاہیئے ۔ “