حدیث نمبر: 923
وعن ابن عباس قال : إذا حرم الرجل امرأته ليس بشيء وقال : لقد كان لكم في رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أسوة حسنة . رواه البخاري. ولمسلم: عن ابن عباس : إذا حرم الرجل امرأته فهو يمين يكفرها.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے ۔ ( بخاری ) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی ۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 923
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري، الطلاق، باب "لم ترحم ما أحل الله لك"، حديث:5266، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الكفارة علي من حرم امرأته ولم ينو الطلاق، حديث:1473.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 5266 | صحيح مسلم: 1473

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´طلاق کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جب شوہر اپنی بیوی کو حرام قرار دے تو یہ کوئی چیز نہیں اور فرمایا تمہارے لئے یقیناَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے۔ (بخاری) اور مسلم میں ہے کہ جب مرد نے اپنی بیوی کو حرام قرار دے لیا تو وہ قسم شمار ہو گی۔ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 923»
تخریج:
«أخرجه البخاري، الطلاق، باب "لم ترحم ما أحل الله لك"، حديث:5266، ومسلم، الطلاق، باب وجوب الكفارة علي من حرم امرأته ولم ينو الطلاق، حديث:1473.»
تشریح: 1. اس حدیث میں مرد کے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کو ’’کچھ بھی نہیں‘‘ سے ذکر کیا گیا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ نہ یہ رجعی طلاق ہے اور نہ بائن اور نہ ظہار‘ بلکہ یہ قسم ہے جس کا کفارہ دیا جائے گا جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔
2. صحیح بخاری میں بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ مرد پر قسم کا کفارہ ہوگا۔
3.اس مسئلے کے بارے میں اہل علم کے تیرہ اقوال منقول ہیں۔
ان میں سے راجح قول یہی ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 923 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5266 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
5266. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ پر اپنی بیوی حرام کرلیتا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں بہترین نمونہ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5266]
حدیث حاشیہ: بعض اہل سیر نے آیت باب کا شان نزول حضرت ماریہ کے واقعہ کو بتایا ہے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 5266 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 5266 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
5266. سیدنا ابن عباس ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: جو شخص اپنے آپ پر اپنی بیوی حرام کرلیتا ہے، اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی سیرت طیبہ میں بہترین نمونہ ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:5266]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک حدیث میں ہے کہ جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دے دے تو وہ قسم شمار ہوگی اور اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔
(صحیح مسلم، الطلاق، حدیث: 3676 (1473) (2)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ارشاد کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب انسان نے اپنی بیوی کو حرام قرار دیتے وقت کوئی نیت کی ہو تو اس وقت اس کی کوئی حیثیت نہیں۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی لونڈی کو اپنے نفس پر حرام کرلیا تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
(سنن النسائي، عشرة النساء، حدیث: 3411)
اس کے متعلق ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے تمھاری قسموں کا کھول دینا مقرر کر دیا ہے۔
‘‘ (التحریم: 2)
یعنی قسم کا کفارہ دے دیا جائے۔
بعض حضرات کے نزدیک قسم کا کفارہ بھی اس وقت ہوگا جب کسی چیز کو حرام قرار دیتے وقت قسم اٹھائی ہو، بصورت دیگر حرام کرلینا ایک لغوحرکت ہوگی جس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
والله اعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 5266 سے ماخوذ ہے۔