حدیث نمبر: 918
وعن محمود بن لبيد رضي الله عنه قال : أخبر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن رجل طلق امرأته ثلاث تطليقات جميعا فقام غضبان ثم قال : « أيلعب بكتاب الله وأنا بين أظهركم » حتى قام رجل فقال : يا رسول الله ألا أقتله ؟ رواه النسائي ورواته موثقون.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے ڈالی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا ” کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں ۔ “ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی ” یا رسول اللہ ! کیا میں اسے قتل نہ کر ڈالوں ؟ “ نسائی اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 918
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه النسائي، الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، حديث:3430.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´طلاق کا بیان`
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی گئی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے ڈالی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضبناک ہو کر اٹھ کھڑے ہوئے اور فرمایا کیا اللہ کی کتاب سے کھیلا جا رہا ہے جب کہ میں تمہارے درمیان موجود ہوں۔ اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کی یا رسول اللہ! کیا میں اسے قتل نہ کر ڈالوں؟ نسائی اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 918»
تخریج:
«أخرجه النسائي، الطلاق، باب الثلاث المجموعة وما فيه من التغليظ، حديث:3430.»
تشریح: یہ حدیث واضح دلیل ہے کہ یک بارگی تین طلاقیں دینا حرام ہے۔
اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رجوع کی اجازت دی یا نہیں؟ لہٰذا اس حدیث سے طلاق کے بارے میں مختلف مذاہب میں سے کسی کی تائید نہیں ہوتی۔
راویٔ حدیث:
«حضرت محمود بن لبید رضی اللہ عنہ» محمود بن لبید بن ابو رافع انصاری اشہلی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں پیدا ہوئے۔
امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ صحابی تھے۔
امام ابو حاتم کہتے ہیں کہ ہم ان کی صحابیت کو نہیں جانتے۔
امام مسلم نے تابعین میں ان کا ذکر کیا ہے۔
اور ان کا شمار بڑے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔
۹۶ ہجری میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 918 سے ماخوذ ہے۔