حدیث نمبر: 902
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أتي بقصعة من ثريد ،‏‏‏‏ فقال : « كلوا من جوانبه ،‏‏‏‏ ولا تأكلوا من وسطها ،‏‏‏‏ فإن البركة تنزل في وسطها ». رواه الأربعة وهذا لفظ النسائي وسنده صحيح ¤¤ وعن أبي هريرة رضي الله تعالى عنه قال : ما عاب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم طعاما قط , كان إذا اشتهى شيئا أكله , وإن كرهه تركه متفق عليه .
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ثرید سے بھرا ہوا ایک بڑا پیالہ پیش کیا گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی ” پیالے کے کناروں سے کھاؤ ، درمیان سے نہ کھاؤ ، اس لیے کہ برکت کا نزول درمیان میں ہوتا ہے ۔ “ اسے چاروں نے روایت کیا ہے اور یہ الفاظ نسائی کے ہیں اور اس کی سند صحیح ہے ۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا ۔ جب کسی چیز کی خواہش ہوتی تو تناول فرما لیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو چھوڑ دیتے ۔ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 902
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، الأطعمة، باب في الأكل من أعلي الصحفة، حديث:3772، والترمذي، الأطعمة، حديث:1805، وابن ماجه، الأطعمة، حديث:3277، والنسائي في الكبرٰي:4 /175، حديث:6762.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1805 | سنن ابي داود: 3772 | سنن ابن ماجه: 3277 | مسند الحميدي: 539

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 1805 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´بیچ سے کھانے کی کراہت کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اس لیے تم لوگ اس کے کناروں سے کھاؤ، بیچ سے مت کھاؤ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأطعمة/حدیث: 1805]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اس میں کھانے کا ادب و طریقہ بتایاگیا ہے کہ درمیان سے مت کھاؤ بلکہ اپنے سامنے اور کنارے سے کھاؤ، کیوں کہ برکت کھانے کے بیچ میں نازل ہوتی ہے، اور اس برکت سے تاکہ سبھی فائدہ اٹھائیں، دوسری بات یہ ہے کہ ایسا کرنے سے جو حصہ کھانے کا بچ جائے گا وہ صاف ستھرا رہے گا، اور دوسروں کے کام آجائے گا، اس لیے اس کا خیال رکھا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1805 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: مسند الحميدي / حدیث: 539 کی شرح از محمد ابراہیم بن بشیر ✍️
539- سفیان کہتے ہیں: عطاء بن سائب ایک مرتبہ ہمارے ساتھ گفتگو کر رہے تھے، میں نے انہیں ایک جنگ کا تذکرہ کرے ہوئے سنا، جس میں وہ شریک ہوئے تھے، پھر انہوں نے گہرا سانس لیا اور رونے لگے کہ اس میں فلاں صاحب بھی تھے، فلاں صاحب بھی تھے، فلاں صاحب بھی تھے اور مقسم بھی تھے۔ تو سعید بن جبیر بولے: کی تم میں سے ہر ایک نے وہ بات سنی ہے جو کھانے کے بارے میں کہی گئی ہے، تو مقسم نے کہا: اے ابو عبداللہ! حاضرین کو وہ بات بتا دیجئے، تو سعید بن جبیر بولے: میں نے سيدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: بے شک برکت کھانے کے درمیان م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [مسند الحمیدی/حدیث نمبر:539]
فائدہ:
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ کھانا درمیان سے نہیں کھانا چاہیے، بلکہ ہر کسی کو اپنی طرف کھانا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند الحمیدی شرح از محمد ابراهيم بن بشير، حدیث/صفحہ نمبر: 539 سے ماخوذ ہے۔