حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 894
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « شر الطعام طعام الوليمة يمنعها من يأتيها ، ويدعى إليها من يأباها ، ومن لم يجب الدعوة فقد عصى الله ورسوله ». أخرجه مسلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے ( مستحقین ) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت ( ولیمہ ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ۔ “ ( مسلم )
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ولیمہ کا بیان`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے (مستحقین) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت (ولیمہ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 894»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بدترین کھانا ولیمہ کا کھانا ہے کہ آنے والے (مستحقین) کو روک دیا جاتا ہے اور جو آنے سے انکاری ہو اسے مدعو کیا جاتا ہے اور جس نے دعوت (ولیمہ) کو قبول و منظور نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی۔ “ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 894»
تخریج:
«أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.»
تشریح: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس دعوت میں فقراء اور اغنیاء دونوں کو مدعو کیا گیا ہو‘ اس میں شر نہیں ہوتا۔
«أخرجه مسلم، النكاح، باب الأمر بإجابة الداعي إلي دعوة، حديث:1432.»
تشریح: اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جس دعوت میں فقراء اور اغنیاء دونوں کو مدعو کیا گیا ہو‘ اس میں شر نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 894 سے ماخوذ ہے۔