حدیث نمبر: 890
وعن عقبة بن عامر رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « خير الصداق أيسره ». أخرجه أبو داود ،‏‏‏‏ وصححه الحاكم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” بہترین حق مہر وہ ہے جس کا ادا کرنا نہایت سہل اور آسان ہو ۔ “ اسے ابوداؤد نے روایت کی ہے اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 890
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، النكاح، باب فيمن تزوج ولم يسم صداقًا حتي مات، حديث:2117، والحاكم:2 /182 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2117

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2117 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ایک شخص نے نکاح کیا مہر مقرر نہیں کی اور مر گیا اس کے حکم کا بیان۔`
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح فلاں عورت سے کر دوں؟ اس نے جواب دیا: ہاں، پھر عورت سے کہا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ فلاں مرد سے تمہارا نکاح کر دوں؟ اس نے بھی جواب دیا: ہاں، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کا نکاح کر دیا، اور آدمی نے اس سے صحبت کر لی لیکن نہ تو اس نے مہر متعین کیا اور نہ ہی اسے کوئی چیز دی، یہ شخص غزوہ حدیبیہ میں شریک تھا اور اسی بنا پر اسے خیبر سے حصہ ملتا تھا، جب اس کی وفات۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2117]
فوائد ومسائل:
اصل مسئلہ یہ ہے کہ حق مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں عورت مہر مثل کی مستحق ہوتی ہے بشرطیکہ اس سے صحبت کرلی گئی جب کہ واقعہ میں اسے مہر زیادہ دیا گیا۔
اس لئے امام صاحب اس واقعہ کے خلاف تعبیر فرمایا۔
علاوہ ازیں روایت کا یہ ٹکڑا ابو داود کے اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2117 سے ماخوذ ہے۔