مرکزی مواد پر جائیں
19 شعبان، 1447 ہجری
حدیث نمبر: 879
وعن جابر قال : كنا نعزل على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم والقرآن ينزل ،‏‏‏‏ ولو كان شيئا ينهى عنه ،‏‏‏‏ لنهانا عنه القرآن. متفق عليه. ولمسلم : فبلغ ذلك نبي الله صلى الله عليه وآله وسلم فلم ينهنا عنه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کرتے تھے اور قرآن اس وقت نازل ہو رہا تھا اگر کوئی چیز قابل ممانعت ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے لازما منع کر دیتا ( بخاری و مسلم ) اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے ۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 879
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´عورتوں (بیویوں) کے ساتھ رہن سہن و میل جول کا بیان`
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں عزل کرتے تھے اور قرآن اس وقت نازل ہو رہا تھا اگر کوئی چیز قابل ممانعت ہوتی تو قرآن ہمیں اس سے لازما منع کر دیتا (بخاری و مسلم) اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے۔ یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ گئی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا۔ «بلوغ المرام/حدیث: 879»
تخریج:
«أخرجه البخاري، النكاح، باب العزل، حديث:5207، ومسلم، النكاح، باب حكم العزل، حديث:1440.»
تشریح: اس روایت کی رو سے عزل کا جواز ثابت ہوتا ہے۔
امام مالک ‘ امام شافعی رحمہما اللہ ‘ اہل کوفہ اور جمہور علماء اس کے جواز کے قائل ہیں۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 879 سے ماخوذ ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔