حدیث نمبر: 868
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا ينظر الله إلى رجل أتى رجلا ،‏‏‏‏ أو امرأة في دبرها ». رواه الترمذي والنسائي وابن حبان ،‏‏‏‏ وأعل بالوقف.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھے گا جس نے کسی مرد یا عورت سے قوم لوط کا فعل کیا ہو ۔ “ اسے ترمذی ، نسائی اور ابن حبان نے روایت کی ہے اور اسے موقوف ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 868
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه الترمذي، الرضاع، باب ما جاء في كراهية إتيان النساء في أدبارهن، حديث:1165، وقال: "حسن غريب" والنسائي في الكبرٰي:5 /320، 321، حديث:9001، 9002، وابن حبان (الإحسان):6 /202، حديث:4191ب.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1165 | سنن ترمذي: 2980 | سنن ابي داود: 2164

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2164 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´نکاح کے مختلف مسائل کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بخشے ان کو «أنى شئتم» کے لفظ سے وہم ہو گیا تھا، اصل واقعہ یوں ہے کہ انصار کے اس بت پرست قبیلے کا یہود (جو کہ اہل کتاب ہیں کے) ایک قبیلے کے ساتھ میل جول تھا اور انصار علم میں یہود کو اپنے سے برتر مانتے تھے، اور بہت سے معاملات میں ان کی پیروی کرتے تھے، اہل کتاب کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں سے ایک ہی آسن سے صحبت کرتے تھے، اس میں عورت کے لیے پردہ داری بھی زیادہ رہتی تھی، چنانچہ انصار نے بھی یہودیوں سے یہی طریقہ لے لیا اور قریش کے اس قبیلہ کا حال یہ تھا کہ وہ عورتوں کو طرح طرح سے ننگا کر۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب النكاح /حدیث: 2164]
فوائد ومسائل:
1: بیوی سے پاخانہ کی جگہ میں مباشرت کرنا حرا م اور لعنت کا کام ہے کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا وہ شخص ملعون ہے جو اپنی بیوی کی دبر میں مباشرت کرے۔
اسی کی بابت ایک جگہ پر یوں فرمایا: اللہ تعالی اس شخص کی طرف نہیں دیکھے گا جو کسی مرد یا عورت کی دبر میں جنسی عمل کرے۔
ان فرامین کی روشنی میں مر دکو اس قبیح عمل سے اجتناب کرنا چاہیے اور عورت کو چاہیے کہ اس منکر عظیم کے بارے میں اپنے شوہر کی بات نہ مانے اگر وہ ایسا کرنے کے لئے کہے تو انکار کردے۔

2: شروع حدیث میں جو حضرت ابن عمررضی اللہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ وہ آیت مذکورہ تفسیر کی بابت کچھ اختلاف ہے، گویا یہ بات صحیح نہیں لیکن حضرت ابن عباس کو اسی طرح خبر دی گئی تھی۔
حالانکہ حضرت ابن عمررضی اللہ کے قائل نہیں تھے، جیسے کہ علامہ ابن قیم رضی اللہ نے اس کی وضاحت فرما دی ہے۔
(حواشی عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2164 سے ماخوذ ہے۔