حدیث کتب › بلوغ المرام ›
بلوغ المرام
— نکاح کے مسائل کا بیان
باب الكفاءة والخيار باب: کفو ( مثل ، نظیر اور ہمسری ) اور اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 866
ومن طريق سعيد بن المسيب أيضا قال : قضى عمر في العنين أن يؤجل سنة. ورجاله ثقات.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ` سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا ۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان`
اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 866»
اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 866»
تخریج:
«أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»
تشریح: یہ اثر اور زید بن کعب بن عجرہ کی حدیث اگر چہ سندا ضعیف ہیں،تاہم ہر وہ عیب و نقص جو میاں بیوی کے درمیان نفرت کا موجب ہو اور اس سے نکاح کا مقصد بھی حاصل نہ ہو‘ یعنی آپس میں محبت و الفت پیدا نہ ہو یا وہ عیب و نقص وظیفۂ زوجیت میں دخل انداز ہو تو ایسا نقص اختیار کا موجب و باعث اور فسخ نکاح کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں اسی موقف کو اختیار کیا ہے اور جمہور کا بھی یہی موقف ہے۔
«أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»
تشریح: یہ اثر اور زید بن کعب بن عجرہ کی حدیث اگر چہ سندا ضعیف ہیں،تاہم ہر وہ عیب و نقص جو میاں بیوی کے درمیان نفرت کا موجب ہو اور اس سے نکاح کا مقصد بھی حاصل نہ ہو‘ یعنی آپس میں محبت و الفت پیدا نہ ہو یا وہ عیب و نقص وظیفۂ زوجیت میں دخل انداز ہو تو ایسا نقص اختیار کا موجب و باعث اور فسخ نکاح کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں اسی موقف کو اختیار کیا ہے اور جمہور کا بھی یہی موقف ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 866 سے ماخوذ ہے۔