حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 853
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « لا ينكح الزاني المجلود إلا مثله ». رواه أحمد وأبو داود ، ورجاله ثقات.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” زانی جس پر حد زنا کے کوڑے برس چکے ہوں اپنے جیسی حد لگی ہوئی عورت کے سوا کسی دوسری سے نکاح نہ کرے ۔ “ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” زانی جس پر حد زنا کے کوڑے برس چکے ہوں اپنے جیسی حد لگی ہوئی عورت کے سوا کسی دوسری سے نکاح نہ کرے۔ “ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 853»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” زانی جس پر حد زنا کے کوڑے برس چکے ہوں اپنے جیسی حد لگی ہوئی عورت کے سوا کسی دوسری سے نکاح نہ کرے۔ “ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ «بلوغ المرام/حدیث: 853»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في قوله تعالي: (الزاني لا ينكح إلا زانية)، حديث:2052، وأحمد:2 /324.»
تشریح: سبل السلام میں ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے لیے حرام ہے کہ وہ اس شخص سے نکاح کرے جو زانی ہو۔
اور زانی کے لیے مجلود کی صفت بطور اغلب ہے۔
اسی طرح مرد کے لیے بھی حرام ہے کہ وہ ایسی عورت سے شادی کرے جو زانیہ ہو۔
اور یہ حدیث اس ارشاد باری تعالیٰ کے موافق ہے: ﴿ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (النور۲۴:۳) ’’اور یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔
‘‘ اس کے بعد علامہ صنعانی نے اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ذکر کیا ہے اور بالآخر زانی اور زانیہ سے نکاح کی حرمت کے قول کو مضبوط قرار دیا ہے۔
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في قوله تعالي: (الزاني لا ينكح إلا زانية)، حديث:2052، وأحمد:2 /324.»
تشریح: سبل السلام میں ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورت کے لیے حرام ہے کہ وہ اس شخص سے نکاح کرے جو زانی ہو۔
اور زانی کے لیے مجلود کی صفت بطور اغلب ہے۔
اسی طرح مرد کے لیے بھی حرام ہے کہ وہ ایسی عورت سے شادی کرے جو زانیہ ہو۔
اور یہ حدیث اس ارشاد باری تعالیٰ کے موافق ہے: ﴿ وَحُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ﴾ (النور۲۴:۳) ’’اور یہ مومنوں پر حرام کر دیا گیا ہے۔
‘‘ اس کے بعد علامہ صنعانی نے اس مسئلے میں علماء کا اختلاف ذکر کیا ہے اور بالآخر زانی اور زانیہ سے نکاح کی حرمت کے قول کو مضبوط قرار دیا ہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 853 سے ماخوذ ہے۔