حدیث نمبر: 841
وعن ابن عباس رضي الله عنهما : أن جارية بكرا أتت النبي صلى الله عليه وآله وسلم ،‏‏‏‏ فذكرت أن أباها زوجها وهي كارهة ،‏‏‏‏ فخيرها رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه ،‏‏‏‏ وأعل بالإرسال.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا ( یہ سن کر ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا ۔ اسے احمد ، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 841
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2096 | سنن ابن ماجه: 1875 | معجم صغير للطبراني: 496 | سنن نسائي: 2826

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´(نکاح کے متعلق احادیث)`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے بتایا کہ اس کے والد نے اس کا نکاح کر دیا ہے جب کہ اسے ناپسند تھا (یہ سن کر) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کو اختیار دے دیا۔ اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور اس حدیث کو مرسل ہونے کی بنا پر معلول کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 841»
تخریج:
«أخرجه أبوداود، النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، حديث:2096، وابن ماجه، النكاح، حديث:1875، وأحمد:1 /273.»
تشریح: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ باپ اگرچہ ولی ہے لیکن اگر وہ لڑ کی کے اذن اور مشورے کے بغیر اس کا نکاح کرتا ہے تو لڑکی کو شرعاً اختیار حاصل ہے کہ اگر وہ اس نکاح سے ناخوش ہے تو اسے فسخ کر دے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 841 سے ماخوذ ہے۔