حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 822
وعن معاذ بن جبل رضي الله تعالى عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « إن الله تصدق عليكم بثلث أموالكم عند وفاتكم زيادة في حسناتكم». رواه الدارقطني وأخرجه أحمد والبزار من حديث أبي الدرداء ، وابن ماجه من حديث أبي هريرة ، وكلها ضعيفة ، لكن قد يقوي بعضها بعضا ، والله أعلم.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں ۔ ٍ “ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے ۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض ، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم»
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´وصیتوں کا بیان`
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں۔ ٍ “ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم» «بلوغ المرام/حدیث: 822»
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ تعالیٰ نے تم کو موت کے وقت تہائی مال کا صدقہ دینے کی اجازت دے کر تم پر احسان فرمایا ہے تاکہ تمہاری نیکیاں زیادہ ہو جائیں۔ ٍ “ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور احمد اور بزار نے ابوالدرداء رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے اس حدیث کی تخریج کی ہے اور ابن ماجہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے۔ مگر ساری کی ساری روایتیں ضعیف ہیں اس کے باوجود بعض، بعض کے لیے باعث تقویت ہیں «والله أعلم» «بلوغ المرام/حدیث: 822»
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:4 /150، وحديث أبي الدرداء أخرجه أحمد:6 /441، والبزار، وحديث أبي هريرة أخرجه ابن ماجه، الوصايا، حديث:2709. وسنده ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جیسا کہ صاحب کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ان تمام میں ضعف ہے لیکن بعض بعض کے لیے باعث تقویت ہیں۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۴۵ /۴۷۵‘ ۴۷۶‘ والإرواء‘ رقم:۱۶۴۱)
«أخرجه الدارقطني:4 /150، وحديث أبي الدرداء أخرجه أحمد:6 /441، والبزار، وحديث أبي هريرة أخرجه ابن ماجه، الوصايا، حديث:2709. وسنده ضعيف.»
تشریح: مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے جیسا کہ صاحب کتاب نے بھی اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ان تمام میں ضعف ہے لیکن بعض بعض کے لیے باعث تقویت ہیں۔
بنابریں مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعۃ الحدیثیۃ مسند الإمام أحمد: ۴۵ /۴۷۵‘ ۴۷۶‘ والإرواء‘ رقم:۱۶۴۱)
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 822 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 2709 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´تہائی مال تک وصیت کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2709]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ نے تمہاری وفات کے وقت تم پر تہائی مال کا صدقہ کیا ہے، (یعنی وصیت کی اجازت دی ہے) تاکہ تمہارے نیک اعمال میں اضافہ ہو۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الوصايا/حدیث: 2709]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے لیکن بعض محققین نے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 45؍475، 476، والإرواء، رقم: 1641)
بنابریں اسلامی شریعت کے احکام دنیا اور آخرت میں فائدے کا باعث ہیں۔
(2)
اچھے کام کی وصیت کرنے سے مرنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب اس کی وفات کے بعد اس کی وصیت پر عمل کیا جاتا ہے تو مرنے والے کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔
(3)
اگر پسماندگان اچھے کام کی وصیت پرعمل نہ کریں تب بھی فوت ہونے والے کو اچھی وصیت کا ثواب ضرور ملے گا۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قراردیا ہے لیکن بعض محققین نے دیگر شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کےلیے دیکھئے: (الموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 45؍475، 476، والإرواء، رقم: 1641)
بنابریں اسلامی شریعت کے احکام دنیا اور آخرت میں فائدے کا باعث ہیں۔
(2)
اچھے کام کی وصیت کرنے سے مرنے والے کو یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جب اس کی وفات کے بعد اس کی وصیت پر عمل کیا جاتا ہے تو مرنے والے کو اس کا ثواب پہنچتا ہے۔
(3)
اگر پسماندگان اچھے کام کی وصیت پرعمل نہ کریں تب بھی فوت ہونے والے کو اچھی وصیت کا ثواب ضرور ملے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 2709 سے ماخوذ ہے۔