حدیث کتب › بلوغ المرام ›
حدیث نمبر: 814
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « ليس للقاتل من الميراث شيء ». رواه النسائي والدارقطني وقواه ابن عبد البر وأعله النسائي . والصواب وقفه على عمرو.ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی
´سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قاتل کو مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا ۔ “ اسے نسائی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن عبدالبر نے اسے قوی قرار دیا ہے ۔ مگر نسائی نے اسے معلول کہا ہے ۔ دراصل یہ روایت موقوف ہے یعنی عمرو پر موقوف ہونا صحیح کہا گیا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´فرائض (وراثت) کا بیان`
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قاتل کو مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ “ اسے نسائی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن عبدالبر نے اسے قوی قرار دیا ہے۔ مگر نسائی نے اسے معلول کہا ہے۔ دراصل یہ روایت موقوف ہے یعنی عمرو پر موقوف ہونا صحیح کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 814»
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قاتل کو مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی نہیں ملتا۔ “ اسے نسائی اور دارقطنی نے روایت کیا ہے اور ابن عبدالبر نے اسے قوی قرار دیا ہے۔ مگر نسائی نے اسے معلول کہا ہے۔ دراصل یہ روایت موقوف ہے یعنی عمرو پر موقوف ہونا صحیح کہا گیا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 814»
تخریج:
«أخرجه النسائي في الكبرٰي:4 /79، حديث:6367، 6368، والترمذي، الفرائض، حديث:2109، والدارقطني:4 /96، وللحديث شواهد.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے قاتل‘ مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی وصول کرنے کا مستحق نہیں۔
اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے کہ قتل عمد ہو یا قتل خطا‘ قاتل کو نہ اصل مال میں سے کچھ ملے گا اور نہ دیت میں سے‘ مگر امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر قتل خطا ہے تو قاتل کو دیت میں سے تو کچھ نہیں ملے گا‘ البتہ دوسرے مال میں سے میراث لے گا‘ لیکن اس موقف کی ہمیں کوئی دلیل نہیں ملی۔
واللّٰہ أعلم۔
«أخرجه النسائي في الكبرٰي:4 /79، حديث:6367، 6368، والترمذي، الفرائض، حديث:2109، والدارقطني:4 /96، وللحديث شواهد.»
تشریح: اس حدیث کی رو سے قاتل‘ مقتول کی میراث میں سے کچھ بھی وصول کرنے کا مستحق نہیں۔
اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے کہ قتل عمد ہو یا قتل خطا‘ قاتل کو نہ اصل مال میں سے کچھ ملے گا اور نہ دیت میں سے‘ مگر امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اگر قتل خطا ہے تو قاتل کو دیت میں سے تو کچھ نہیں ملے گا‘ البتہ دوسرے مال میں سے میراث لے گا‘ لیکن اس موقف کی ہمیں کوئی دلیل نہیں ملی۔
واللّٰہ أعلم۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 814 سے ماخوذ ہے۔