حدیث نمبر: 801
وعنه رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم : « من آوى ضالة فهو ضال ما لم يعرفها ». رواه مسلم.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جس کسی نے گمشدہ چیز کو اپنے ہاں پناہ دی اور اس کا اعلان نہ کیا تو وہ خود گمراہ ہے ۔ “ ( مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 801
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان`
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کسی نے گمشدہ چیز کو اپنے ہاں پناہ دی اور اس کا اعلان نہ کیا تو وہ خود گمراہ ہے۔ (مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 801»
تخریج:
«أخرجه مسلم، اللقطة، باب في لقطة الحاج، حديث:1725.»
تشریح: اس حدیث میں یہ تنبیہ ہے کہ اگر کوئی آدمی گری پڑی چیز کو اعلان کرنے کے لیے اٹھائے یا اس نیت سے اٹھائے کہ شاید ایسے آدمی کے ہاتھ نہ لگ جائے جو اس کا اعلان ہی نہ کرے اور خود ہڑپ کر جائے تو اسے اٹھانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔
اور اگر اس کی اپنی نیت ہی ہضم کر جانے کی ہو اور اس کا اعلان وغیرہ بھی نہ کرے تو یہ آدمی خود گمراہ ہے۔
اسے چاہیے کہ گری پڑی چیز کو ہاتھ نہ لگائے‘ جہاں پڑی ہے پڑی رہے اور اپنی ذمہ داری سے سبکدوش رہے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 801 سے ماخوذ ہے۔