حدیث نمبر: 799
عن أنس قال : مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بتمرة في الطريق فقال : « لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها ». متفق عليه.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں گری پڑی ایک کھجور پر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا ’’ اگر مجھ کو اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو ، تو میں اسے ضرور کھا لیتا ۔ “ ( بخاری و مسلم )

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 799
درجۂ حدیث محدثین: صحيح

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´لقطہٰ (گری پڑی چیز) کا بیان`
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر راستے میں گری پڑی ایک کھجور پر ہوا تو اسے دیکھ کر فرمایا ’’ اگر مجھ کو اس کا اندیشہ نہ ہوتا کہ شاید یہ صدقہ کی ہو، تو میں اسے ضرور کھا لیتا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 799»
تخریج:
«أخرجه البخاري، اللقطة، باب إذا وجد تمرة في الطريق، حديث:2431، ومسلم، الزكاة، باب تحريم الزكاة علي رسول الله صلي الله عليه وسلم وعلي أله، حديث:1071.»
تشریح: 1. یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ لقطہ اگر معمولی ہو تو اس سے انتفاع جائز ہے اور اسے اٹھانے والے کے لیے اس کا اعلان کرتے رہنا بھی ضروری نہیں۔
2. لقطہ کی دو اقسام ہیں: ایک یہ کہ وہ چیز بالکل معمولی سی ہو۔
اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اسے اٹھا کر استعمال کر لیا جائے۔
دوسری یہ کہ وہ چیز قیمتی ہو۔
اس کے بارے میں ارشاد نبوی ہے: ’’اس کا سال بھر اعلان کرائے۔
‘‘ فی زمانہ اخبارات‘ ٹیلی ویژن‘ ریڈیو وغیرہ اور مساجد کے باہر بڑے بڑے جلسوں میں اعلان کرایا جا سکتا ہے۔
اگر اشتہار کی صورت میں اسے کچھ مصارف کرنے پڑیں تو مالک لقطہ سے وصول کیے جا سکتے ہیں‘ اگر وہ آجائے‘ ورنہ اپنی جیب خاص سے۔
سال بھر اعلان کے بعد بھی اگر اس کا اصل مالک نہ ملے تو اسے استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔
پھر بھی اس کی علامات اور نشانیاں ذہن نشین کر لے یا نوٹ کر لے‘ بعد میں بھی اگر اصل مالک آجائے تو اتنی قیمت ادا کرے یا مالک اسے خود چھوڑ دے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 799 سے ماخوذ ہے۔