حدیث نمبر: 792
وعن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما قال : وهب رجل لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم ناقة فأثابه عليها فقال : « رضيت؟» قال : لا ،‏‏‏‏ فزاده فقال: «رضيت؟» قال: لا ،‏‏‏‏ فزاده فقال :« رضيت ؟ » قال: نعم. رواه أحمد وصححه ابن حبان.
ترجمہ:مولانا عبدالعزیز علوی

´سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہبہ کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کچھ ہدیہ عنایت فرمایا اور دریافت فرمایا کہ ” کیا تو راضی ہے ؟ “ اس نے جواب دیا ، نہیں ! پھر مزید کچھ مرحمت فرما کر پوچھا کہ ” اب تو خوش ہے ؟ “ اس آدمی نے پھر یہی کہا کہ نہیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید برآں دے کر دریافت فرمایا کہ ” اب تو راضی ہے ؟ “ وہ بولا ہاں ! ۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے ۔

حوالہ حدیث بلوغ المرام / حدیث: 792
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «أخرجه أحمد:1 /295، وابن حبان (الموارد)، حديث:1146.»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری
´ھبہ عمری اور رقبی کا بیان`
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی ہبہ کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو کچھ ہدیہ عنایت فرمایا اور دریافت فرمایا کہ کیا تو راضی ہے؟ اس نے جواب دیا، نہیں! پھر مزید کچھ مرحمت فرما کر پوچھا کہ اب تو خوش ہے؟ اس آدمی نے پھر یہی کہا کہ نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مزید برآں دے کر دریافت فرمایا کہ اب تو راضی ہے؟ وہ بولا ہاں!۔ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 792»
تخریج:
«أخرجه أحمد:1 /295، وابن حبان (الموارد)، حديث:1146.»
تشریح: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ تحفہ و ہدیہ قبول کرنا چاہیے اور اس کے بدلے میں کوئی چیز دینی چاہیے۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 792 سے ماخوذ ہے۔